آزاد کشمیر میں دنگا فساد: کالعدم ایکشن کمیٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے متنازع بیان جاری
مظفرآباد — آزاد جموں و کشمیر میں جاری سیاسی و انتظامی کشیدگی کے دوران کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی (JAAC) کے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈل سے جاری ہونے والے ایک متنازع بیان کے بعد نیا سیاسی و نظریاتی بحران پیدا ہو گیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' (سابقہ ٹوئٹر) پر کی جانے والی پوسٹ میں آزاد کشمیر کے بانی رہنماؤں اور تحریکِ آزادی کے قائدین کے حوالے سے انتہائی متنازع الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، جس پر سیاسی و عوامی حلقوں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
متنازع پوسٹ کے اہم نکات اور انکشافات
بانی رہنماؤں پر تنقید: کالعدم کمیٹی کے ہینڈل سے آزاد کشمیر کے سابق صدور اور بانی رہنماؤں سردار محمد ابراہیم خان اور سردار محمد عبدالقیوم خان کے تاریخی کردار پر سوالات اٹھائے گئے۔
تاریخی موقف سے انحراف: پوسٹ میں تقسیمِ ہند کے تاریخی پس منظر اور مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف کشمیری عوام کی جدوجہد کے برعکس بیانیہ اختیار کیا گیا۔
عوامی تشویش: تجزیہ کاروں اور مقامی قیادت کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات سے حقوق کی تحریک کو غلط رخ دیا جا رہا ہے، جس سے بھارتی بیانیے کو تقویت ملتی ہے۔
"کشمیری عوام کی دہائیوں پر محیط قربانیوں اور بانیانِ ریاست کی خدمات کو متنازع بنانا تحریکِ آزادی کے بنیادی مقاصد کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔"
— سیاسی و دفاعی ماہرین