برہان مظفر وانی : تحریکِ آزادیِ کشمیر کا ہیرو
حریت رہنما کی دسویں برسی پر وادی گونج اٹھی، حقِ خودارادیت کا عزمِ نو
سرینگر — مقبوضہ جموں و کشمیر کی تحریکِ آزادی میں نئی روح پھونکنے والے نوجوان حریت رہنما برہان مظفر وانی کی شہادت کو آج 10 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ برہان وانی کی دسویں برسی کے موقع پر وادی بھر میں ان کی قربانیوں کو یاد کیا جا رہا ہے، جنہوں نے قابض فورسز کے شدید جبر اور خوف کے ماحول کے باوجود مزاحمت کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔
برہان مظفر وانی نے اکتوبر 2010 میں محض 15 سال کی عمر میں بھارتی تسلط کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا تھا اور بہت کم عرصے میں وہ کشمیری نوجوانوں کی مزاحمت کی علامت بن کر ابھرے۔
سوشل میڈیا کے ذریعے بھارتی پروپیگنڈے کا مؤثر خاتمہ
برہان وانی نے روایتی طریقوں سے ہٹ کر جدید دور کے تقاضوں کو سمجھا اور سوشل میڈیا کو کشمیری بیانیے کی ترویج کا سب سے بڑا ذریعہ بنایا۔ ان کی حکمتِ عملی کے نمایاں پہلو درج ذیل ہیں:
ڈیجیٹل محاذ پر برتری: انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہوئے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا اور دنیا بھر میں کشمیر کا مقدمہ پیش کیا۔
عوام میں بیداری: 8 لاکھ سے زائد قابض بھارتی فوج کی موجودگی کے باوجود، انہوں نے کشمیری عوام کے دلوں سے خوف کا خاتمہ کر کے انہیں اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا سکھایا۔
عوامی تحریک میں تبدیلی: 8 جولائی 2016 کو ان کی شہادت کی خبر پھیلتے ہی لاکھوں کشمیری سڑکوں پر نکل آئے، جس نے ثابت کیا کہ وہ عوام کے مقبول ترین رہنما تھے۔
شہداء کی قربانیوں کا مشن اور منزل
برہان مظفر وانی اور ان کے دیگر ساتھیوں کی شہادت نے تحریکِ آزادیِ کشمیر کو ایک ایسا عزم اور توانائی فراہم کی ہے جسے دہائیاں گزرنے کے بعد بھی دبایا نہیں جا سکا۔ حریت رہنماؤں کا کہنا ہے کہ برہان وانی سمیت ہزاروں کشمیری شہداء کی قربانیوں کا واحد مقصد اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دلانا ہے، اور یہ جدوجہد منزل کے حصول تک جاری رہے گی