سیاسی مسائل کا سیاسی حل نکالا جائے، مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کا خیرمقدم: بلاول بھٹو
وزیر اعظم کے چند وزراء ہی ان کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں، اپوزیشن جلسوں کی تقاریر قابلِ اعتراض ہیں: چیئرمین پی پی پی
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے تمام پیچیدہ سیاسی مسائل کا حل صرف اور صرف سیاسی بات چیت کے ذریعے ہی نکالا جانا چاہیے۔ ایوان میں طویل بحث کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اگر جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے موجودہ صورتحال پر ثالثی کی کوشش کی ہے تو حکومت کو ہٹ دھرمی چھوڑ کر اسے ایک بڑا موقع فراہم کرنا چاہیے۔
وفاقی کابینہ کا اندرونی انتشار اور اپوزیشن روابط
چیئرمین پیپلز پارٹی نے وفاقی کابینہ کے اندرونی خلفشار کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم خود اپوزیشن اور حکومت کے تمام اتحادیوں کے ساتھ مثبت اور پائیدار رابطے قائم رکھتے ہیں۔ تاہم، وزیر اعظم کے اپنے ہی چند ایسے وزراء موجود ہیں جو مسلسل ایسے بیانات اور اقدامات کرتے ہیں جس سے خود وزیر اعظم کے لیے شدید سیاسی مشکلات اور بحران پیدا ہوتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب کے دوران درج ذیل اہم نکات پر روشنی ڈالی:
آزاد کشمیر کا سیاسی حل: آزاد کشمیر کے حالیہ بحران پر تمام سیاسی جماعتوں نے فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مشترکہ سیاسی حل نکالنے کی بھرپور اور کامیاب کوشش کی ہے۔
جلسے والوں کی تقاریر پر تنقید: اپوزیشن کے حالیہ جلسوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جلسے کرنے والوں کی تقاریر سراسر غیر جمہوری اور انتہائی قابلِ اعتراض ہیں