بلاول بھٹو کا کوٹلی میں بڑا اعلان، کشمیر بحران پر ٹروتھ کمیشن کا مطالبہ
کوٹلی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ 40 روز سے جاری بحران کے حل کے لیے ایک آزاد اور غیر جانبدار "ٹروتھ کمیشن" قائم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
کوٹلی میں ایک بڑے اور پُرجوش انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی نے تمام فریقین سے تحمل اور مذاکرات کی میز پر آنے کی اپیل کی۔ انہوں نے تجویز دی کہ تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے تک احتجاج اور حکومتی کارروائیاں فوری روکی جائیں۔ بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ سروس کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چند افراد کے اقدامات کی سزا پورے آزاد کشمیر کو "اجتماعی سزا" کی صورت میں دینا کسی صورت درست نہیں۔
آزاد کشمیر کو قومی اداروں میں نمائندگی اور وسائل پر حق کا مطالبہ
آئینی و معاشی حقوق کا نیا فریم ورک
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر کا نوجوان اصلاحات، بہتر طرزِ حکمرانی اور زیادہ سیاسی و آئینی حقوق چاہتا ہے، جس کے لیے پیپلز پارٹی ہر فورم پر آواز اٹھائے گی۔
قومی فورمز پر نمائندگی: عبوری مدت میں آزاد کشمیر کو پاکستان کے اہم فیصلہ ساز اداروں، بالخصوص این ایف سی (NFC) اور او آئی سی (OIC) میں مؤثر نمائندگی دی جائے۔
وسائل پر پہلا حق: انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ آزاد کشمیر کے وسائل، زمین، دریا اور قدرتی ذخائر پر پہلا حق صرف اور صرف کشمیری عوام کا ہے۔
27 جولائی کے انتخابات اور پارٹی کارکنان کو پیغام
کوٹلی سے تاریخی مینڈیٹ کا یقین
آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو ہونے والے انتخابی معرکے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کوٹلی کی تمام نشستوں سمیت ایل اے-9 نکیال میں جاوید بڈھانوی اور دیگر امیدواروں کی بھاری اکثریت سے کامیابی کا یقین ظاہر کیا۔
"کوٹلی سے ہمارا رشتہ صرف سیاست کا نہیں بلکہ خاندان کا رشتہ ہے۔ یہاں آکر ہمیشہ اپنے گھر جیسا احساس ہوتا ہے،" بلاول بھٹو نے سینیئر رہنما چوہدری محمد یٰسین کو وفاداری اور بہادری کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جلاوطنی کے مشکل ترین دنوں میں بھی پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا۔
انتخابی مہم کے اہم نکات:
وفاداروں کو ترجیح: ٹکٹوں کی تقسیم میں پارٹی کے وفادار کارکنوں کو ترجیح دی گئی ہے، جیسے مطلوب انقلابی مرحوم کے بیٹے کو ٹکٹ دیا گیا۔
دباؤ اور ایف آئی آرز مسترد: سیاسی مخالفین جھوٹے مقدمات اور ایف آئی آرز کے ذریعے پی پی پی کے جیالوں کو خوفزدہ نہیں کر سکتے۔
روزگار کی فراہمی: شہید ذوالفقار علی بھٹو اور جامِ شہادت نوش کرنے والی محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کے مطابق، اقتدار میں آکر کشمیری نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنا اولین ترجیح ہوگی۔
عالمی محاذ پر کشمیر کا دفاع اور وفادی وزیر پر تنقید
کشمیریوں کی توہین برداشت نہیں کی جائے گی
بلاول بھٹو زرداری نے کشمیری عوام سے متعلق متنازع بیان دینے والے وفاقی وزیر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی توہین کرنے والے کو عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے وضاحت مانگی کہ یہ بیان حکومتی پالیسی ہے یا ذاتی رائے؟
"میں نے مودی کی سرزمین پر کھڑے ہو کر کشمیر کی آزادی اور حقِ خودارادیت کا مقدمہ دنیا کے سامنے لڑا ہے۔ کشمیریوں کو دہشت گرد کہنا نامقبول اور ناقابلِ قبول ہے۔ جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا، وہاں ہمارا خون گرے گا،" انہوں نے 27 جولائی کو عوام سے ’تیر‘ کے نشان پر مہر لگا کر پی پی پی کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔