آزاد کشمیر میں مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا؛ ریاست بتائے قومی مفاد اہم ہے یا ن لیگ کا؟ — بلاول بھٹو

آزاد کشمیر میں مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا؛ ریاست بتائے قومی مفاد اہم ہے یا ن لیگ کا؟ — بلاول بھٹو

Jul 28, 2026|ویب ڈیسک

​مظفرآباد / کوٹلہ — پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے کسی صورت جمہوریت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔

​مظفرآباد کے علاقے کوٹلہ میں پیپلز پارٹی کے امیدوار قانون ساز اسمبلی اور وزیرِ حکومت سردار جاوید ایوب کے حلقے میں عظیم الشان عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی نے میرپور ڈویژن میں پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ پر ڈاکے اور الیکشن میں دھاندلی کے شدید الزامات عائد کیے۔

​"ریاستِ پاکستان کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کے لیے قومی مفاد زیادہ اہم ہے یا نون لیگ کا مفاد۔ ہم خاموش ہو کر یہ تماشا نہیں دیکھ سکتے۔"

— بلاول بھٹو زرداری

​خطاب کے اہم نکات اور الزامات

​میرپور میں ووٹ کی چوری: بلاول بھٹو نے انکشاف کیا کہ چوہدری یاسین کی 30 یونین کونسلوں پر مخالفین نے قبضہ کیا اور کئی پولنگ اسٹیشنوں سے پولیس پراسرار طور پر غائب تھی۔ ویڈیو ثبوت موجود ہونے کے باوجود دھاندلی کے ذریعے نتیجہ بدلا گیا۔

​صدارتی انتخاب میں تاخیر: انہوں نے سوال اٹھایا کہ آئین کے مطابق صدر آزاد کشمیر کا انتخاب اس لیے نہیں کروایا گیا کیونکہ ن لیگ کو معلوم تھا کہ پیپلز پارٹی یہ الیکشن جیت جائے گی۔

​جیالے کارکن کی شہادت: نکیال میں پی پی پی کے شہید کارکن مختار یونس کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بندوقیں چلا کر خوف و ہراس پھیلانے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

​دانشور تاسیتوس کا حوالہ: اپنے خطاب میں یونانی دانشور کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ظلم، زیادتی اور قتل و غارت کو امن کا جھوٹا نام دے کر پھیلایا جا رہا ہے۔"

​سیاسی بحران کا حل: 'سچ اور مفاہمت کمیشن'

​آزاد کشمیر میں جاری احتجاج اور کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے چیئرمین پی پی پی نے وفاق اور احتجاجی تحریک دونوں کو ایک مفاہمتی راستہ تجویز کیا:0 جولائی کو جلسہ اور 2 اگست کے الیکشن کا چیلنج

​بلاول بھٹو زرداری نے 30 جولائی کو مظفرآباد میں ایک تاریخی جلسے کا اعلان کیا جس کا بنیادی نعرہ "آزادجموں و کشمیر کے مینڈیٹ پر ڈاکہ نا منظور" ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ 2 اگست کو ہونے والے انتخابات میں کسی کو ووٹ چوری نہیں کرنے دیا جائے گا، اور اگر کارکنوں پر تشدد کیا گیا تو پیپلز پارٹی پرامن رہنے پر مجبور نہیں رہے گی