ڈرائیوروں پر تشدد اور سپلائی لائنز کی معطلی کی مذمت
مظفرآباد (ویب ڈیسک): چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) آزاد جموں و کشمیر نے سیکیورٹی اور انتظامی صورتحال پر اہم بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی حکومت آزاد کشمیر کے سالانہ بجٹ میں ساڑھے تین سو ارب روپے کی بھاری رقم فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے دھرنا منتظمین کی جانب سے آئینی و قانونی تجاویز کو مسترد کرنے اور پرتشدد حربے اپنانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شرپسند عناصر کے رویے بے نقاب
چیف سیکریٹری آزاد کشمیر نے شرپسند عناصر کے رویے کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ اور حکومتی کمیٹی نے دھرنا مظاہرین کو تمام مسائل کا آئینی و قانونی حل نکالنے کی پیشکش کی تھی۔ تاہم، دوسری جانب سے مثبت مذاکرات کی تمام تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا گیا۔
"انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ہم بات چیت نہیں کریں گے بلکہ اب 'لشکر کشی' ہوگی۔ انہوں نے کسی بھی متبادل تجویز کو ماننے کے بجائے اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کی اور مارکیٹیں زبردستی بند کرانے کا اعلان کیا۔" — چیف سیکریٹری آزاد کشمیر
انتظامیہ نے احتجاج کی آڑ میں ہونے والے اسٹریٹجک حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سپلائی کا سامان لانے والے ہمارے تین اہم ٹرکوں میں سے ایک کو اغوا کیا گیا اور معصوم ڈرائیوروں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے باوجود، راولاکوٹ اور دیگر علاقوں کی غیور عوام اور تاجر برادری ریاست کے ساتھ کھڑی ہے۔
عوام اور تاجروں کا شکریہ: چیف سیکریٹری نے مشکل صورتحال میں انتظامیہ کا ساتھ دینے پر عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مارکیٹیں ہمارے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔
راولاکوٹ کا لاتعلقی کا اظہار: راولاکوٹ کے مقامی لوگ مسلسل انتظامیہ سے رابطے میں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان شرپسند عناصر سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
دھرنے کے شرکاء سے قانون کے حوالے ہونے کی اپیل (Key Takeaways)
فائدے اور نقصان کا سوچیں: چیف سیکریٹری نے دھرنے میں شامل عام شہریوں سے ہمدردانہ اپیل کی ہے کہ وہ بیرونی ایجنڈے کے بجائے اپنے اچھے اور برے مستقبل کی خود فکر کریں۔
قانون کے سامنے سرنڈر کی دعوت: دھرنے کے مرکزی شرکاء اور مطلوب افراد کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ خود کو فوری طور پر قانون کے حوالے کریں۔
قانونی ریلیف کی گارنٹی: انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جو لوگ خود کو قانون کے حوالے کریں گے، انہیں مروجہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر ممکنہ ریلیف فراہم کیا جائے گا