کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی خزاں کے پتوں کی طرح بکھرنے لگی
باغ (ویب ڈیسک): بیرون ملک کے ایماء پر آزاد جموں و کشمیر میں افراتفری، جلاؤ گھیراؤ اور قتل و غارت گری پھیلانے والی کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کو ایک اور شدید دھچکا پہنچا ہے۔ باغ سے تعلق رکھنے والے تنظیم کے مرکزی کور ممبر اور چیئرمین آل آزاد کشمیر انجمنِ تاجران افتخار محمود نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے انتشاری کمیٹی سے اپنے مکمل بائیکاٹ اور لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔
پرامن تحریک کا رخ پاکستان کے خلاف موڑنے کی کوشش ناکام
افتخار محمود نے اپنے ویڈیو پیغام میں انکشاف کیا کہ بنیادی طور پر تاجروں اور عوام کے مسائل کے لیے شروع ہونے والی پرامن تحریک کا رخ جان بوجھ کر موڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے شرپسند عناصر کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ اس پلیٹ فارم کو پاکستان اور کشمیر کے لازوال رشتے کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
"انتشاری کمیٹی کے کچھ مخصوص لوگ کالعدم ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم کو پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ریاستِ پاکستان کے خلاف اٹھنے والی کسی بھی آواز، سرگرمی یا علیحدگی پسند تنظیم سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔" — افتخار محمود
نوجوانوں سے مثبت سیاست میں واپسی کی ہمدردانہ اپیل
ویڈیو پیغام میں افتخار محمود نے آزاد کشمیر کے غیور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں استعمال ہونے کے بجائے مثبت سیاست کی طرف لوٹیں۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوان اپنے روشن مستقبل کو ایسی ریاست مخالف اور پرتشدد سرگرمیوں کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ یاد رہے کہ افتخار محمود سے قبل دیگر مرکزی کور ممبران انجم زمان اور امجد علی خان ایڈووکیٹ بھی اس انتشاری کمیٹی سے علیحدگی اختیار کر چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں اور ماہرین کی آراء (Key Takeaways)
انتشاری ایجنڈا بے نقاب: دفاعی و سیاسی ماہرین کے مطابق، یکے بعد دیگرے مرکزی قیادت کی علیحدگی سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اس کمیٹی کا ایجنڈا عوامی فلاح نہیں بلکہ صرف انتشار پھیلانا ہے۔
عوام کی جانب سے مسترد: ماہرین کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام اور معزز تاجر برادری نے پاکستان مخالف بیانیے کو یکسر مسترد کر کے شرپسند ٹولے کے مذموم مقاصد کو خود ناکام بنا دیا ہے۔
قیادت کا بحران: کور ممبران کی مسلسل دستبرداری کے بعد کالعدم ایکشن کمیٹی شدید اندرونی شکست و ریخت اور قیادت کے بحران کا شکار ہو چکی ہے