کالعدم ایکشن کمیٹی کا بیانیہ ناکام، آزاد کشمیر میں انتخابی سرگرمیاں تیز

کالعدم ایکشن کمیٹی کا بیانیہ ناکام، آزاد کشمیر میں انتخابی سرگرمیاں تیز

Jun 20, 2026|ویب ڈیسک

مظفر آباد (ویب ڈیسک): آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے آئندہ عام انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمیوں اور انتخابی گہما گہمی میں مسلسل تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ آزاد کشمیر کے باشعور شہریوں نے غیر جمہوری اور شرپسند عناصر کے بائیکاٹ کے ایجنڈے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے سیاسی و جمہوری عمل میں بھرپور حصہ لینا شروع کر دیا ہے، جس سے امن دشمن عناصر کی تمام سازشیں ناکام ہو گئی ہیں۔

الیکشن کمیشن کے انتظامات مکمل، 518 امیدوار میدان میں

چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر جسٹس (ریٹائرڈ) غلام مصطفیٰ مغل اور سیکریٹری الیکشن کمیشن راجہ شکیل خان کے مطابق، انتخابی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور امیدواروں کی ایک بڑی تعداد اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا رہی ہے۔

انتخابی عمل اور ووٹرز کی سہولت کے لیے کیے گئے اہم اقدامات اور اعداد و شمار درج ذیل ہیں:

• کاغذاتِ نامزدگی کی آخری تاریخ: سیکریٹری الیکشن کمیشن کے مطابق کاغذاتِ نامزدگی 23 جون تک جمع کرائے جا سکتے ہیں، اور اس عمل کو تیز بنانے کے لیے ریٹرننگ افسران اتوار کے روز بھی دفاتر میں موجود ہیں۔

• امیدواروں کی ریکارڈ تعداد: آزاد کشمیر میں اب تک مجموعی طور پر 518 امیدواروں نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

• حلقہ وار تفصیلات: جموں و کشمیر کے مہاجرین کی مخصوص نشستوں پر 114 اور راولاکوٹ سے 130 امیدواروں نے اب تک کاغذات جمع کرائے ہیں۔

• پولنگ بوتھس کی تعداد میں اضافہ: چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا ہے کہ ووٹرز کا رش کم کرنے کے لیے جس پولنگ ایریا میں 500 سے زائد ووٹرز ہوں گے، وہاں 2 پولنگ بوتھ قائم کیے جائیں گے۔

انتخابی گہما گہمی جمہوریت پر عوامی اعتماد کا ثبوت ہے

سابق وزیر خزانہ آزاد کشمیر ماجد خان نے الیکشن کمیشن کے انتظامات پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہاجرین کی نشستوں سمیت تمام حلقوں میں عوام اور سیاسی رہنماؤں کی بڑی تعداد میں شرکت انتہائی خوش آئند ہے۔

"آزاد کشمیر میں جاری یہ انتخابی گہما گہمی اس بات کا واضح پیغام ہے کہ عوام شرپسند کمیٹی کے منفی، انتشار انگیز اور غیر جمہوری مؤقف کو مسترد کر چکے ہیں۔"

سیاسی مبصرین کے مطابق، آزاد کشمیر کے غیور عوام کا انتخابی عمل میں یہ فعال اور پرجوش کردار ثابت کرتا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی یا داخلی شرپسند ایجنڈے کے بجائے اپنی ریاست، آئین اور منتخب نمائندوں پر مکمل اور غیر متزلزل اعتماد کرتے ہیں۔