آزاد کشمیر میں دھرنا ختم، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی منظرِ عام سے غائب؛ تمام اضلاع میں حالات مکمل معمول پر

آزاد کشمیر میں دھرنا ختم، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی منظرِ عام سے غائب؛ تمام اضلاع میں حالات مکمل معمول پر

Jun 12, 2026|ویب ڈیسک

*مظفر آباد / کوٹلی:* آزاد جموں و کشمیر میں جاری حالیہ احتجاجی لہر کا ڈراپ سین ہو گیا ہے۔ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی جانب سے دیا جانے والا دھرنا مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور کمیٹی کے کلیدی عناصر منظرِ عام سے غائب ہو گئے ہیں۔ ریاست کے تمام اضلاع میں صورتحال مکمل طور پر پرامن ہے اور عوامی زندگی اپنے روایتی معمولات پر واپس لوٹ آئی ہے۔

دھرنے کا خاتمہ اور قیادت کا فرار

باوثوق ذرائع کے مطابق، عوامی سطح پر پذیرائی نہ ملنے اور شہریوں کی جانب سے احتجاج کو مکمل طور پر مسترد کیے جانے کے بعد کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا شیرازہ بکھر گیا۔ دھرنا باقاعدہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے جبکہ بدامنی کو ہوا دینے والے کمیٹی کے اہم رہنما اب منظرِ عام سے مکمل طور پر غائب ہیں۔ عوام نے روزمرہ کے معاشی اور سماجی امور کو ترجیح دے کر دھرنا سیاست کو ہمیشہ کے لیے مسترد کر دیا۔

کوٹلی سمیت وادی بھر میں معاشی سرگرمیوں کی بحالی

ریاست کے دیگر حصوں کی طرح کوٹلی میں بھی حالات مکمل طور پر پرامن اور رواں دواں ہیں۔ شہر کے تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز، مارکیٹیں اور کاروباری بازار صبح سویرے ہی کھل گئے۔ شاہراہوں پر پبلک اور نجی ٹریفک کی روانی بھی برقرار ہے، جس کے باعث روزمرہ کی زندگی میں کسی قسم کا کوئی تعطل نظر نہیں آ رہا۔

"دھرنے کے خاتمے اور بازار کھلنے سے تاجر برادری اور دیہاڑی دار طبقے نے سکون کا سانس لیا ہے۔ ہم مزید کسی بندش کے متحمل نہیں ہو سکتے۔" — *مقامی تاجر برادری*


دم استحکام کی سازش ناکام؛ بھارت کو کرارا جواب

سیاسی و سیکیورٹی مبصرین کا کہنا ہے کہ احتجاج کی یہ بدترین ناکامی اور دھرنے کا اچانک خاتمہ، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور اس کے پسِ پردہ سرپرست ملک، بھارت کے لیے ایک واضح اور کرارا پیغام ہے۔ آزاد کشمیر کے باشعور عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ خطے میں بدامنی، افواہ سازی اور سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی ہر اندرونی و بیرونی سازش کو ناکام بنانے کے لیے متحد ہیں۔