آزاد کشمیر حکومت کا بڑا فیصلہ: احتجاجی مقدمات سے متعلق سابقہ رعایتیں واپس، 177 ایف آئی آرز بحال

آزاد کشمیر حکومت کا بڑا فیصلہ: احتجاجی مقدمات سے متعلق سابقہ رعایتیں واپس، 177 ایف آئی آرز بحال

Jun 11, 2026|ویب ڈیسک

مظفر آباد (ویب ڈیسک): حکومتِ آزاد جموں و کشمیر نے امن و امان کی حالیہ صورتحال کے پیشِ نظر ایک سخت انتظامی فیصلہ کرتے ہوئے احتجاجی مقدمات سے متعلق مظاہرین کو دی جانے والی تمام سابقہ رعایتیں فوری طور پر واپس لے لی ہیں۔ اس فیصلے کے تحت ماضی میں ختم کی جانے والی 177 ایف آئی آرز (FIRs) کو بھی دوبارہ بحال کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے۔


سڑکوں پر احتجاج اور دباؤ کی سیاست معاہدے کی خلاف ورزی ہے: حکومت

حکومتی ترجمان کے مطابق، 4 اکتوبر 2025 کو ہونے والے معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ تمام حل طلب معاملات کو ایک باضابطہ 'عملدرآمد کمیٹی' کے ذریعے گفت و شنید سے حل کیا جائے گا۔ تاہم، اس طے شدہ طریقہ کار کو پسِ پشت ڈال کر دوبارہ سڑکوں پر آنا، دباؤ ڈالنا اور عوامی زندگی میں انتشار پیدا کرنا مذکورہ معاہدے کی سنگین اور کھلی خلاف ورزی ہے۔


"جب فریقین کے درمیان معاملات کو کمیٹی کے ذریعے حل کرنے کا معاہدہ موجود تھا، تو دباؤ کی سیاست اور احتجاج کا راستہ اختیار کرنا وعدہ خلافی ہے۔ اسی لیے پہلے ختم کیے گئے مقدمات کو معاہدے کی رو سے ہی دوبارہ بحال کیا گیا ہے۔"


قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا اشارہ

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتِ آزاد کشمیر نے واضح کر دیا ہے کہ ریاست کے امن کو داؤ پر لگانے اور معیشت کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے ساتھ اب کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد جہاں 177 مقدمات اپنی پرانی حیثیت میں بحال ہو چکے ہیں، وہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شرپسند اور پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائیں۔