آزاد کشمیر: مٹیال میرہ بس ٹرمینل پر سیکیورٹی آپریشن جاری، بچوں کو انسانی ڈھال بنانے کی مذمت
مظفرآباد (ویب ڈیسک): سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن آزاد جموں و کشمیر نے ایک اہم مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاست میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، راولاکوٹ سیکیورٹی آپریشن اور تعلیمی اداروں کی بحالی سے متعلق اہم ترین تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
سیکرٹری داخلہ نے واضح کیا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ 38 دنوں سے آزاد کشمیر کا امن اور معمولاتِ زندگی سبوتاژ کرنے میں مصروف ہے، تاہم غیور عوام نے ان کے انتشاری ایجنڈے کو مسترد کر دیا ہے۔
متیال میرہ بس ٹرمینل راولاکوٹ میں مسلح جتھوں کے خلاف آپریشن
پریس کانفرنس کے دوران سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ راولاکوٹ کے متیال میرہ بس ٹرمینل پر علی الصبح شرپسندوں نے معصوم شہریوں پر بلااشتعال فائرنگ کی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر فائرنگ رکوانے کی کوشش کی تو مسلح جتھوں نے خودکار ہتھیاروں اور بارود سے حملہ کیا۔
اس حملے کے جواب میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رینجرز کی نفری کے ہمراہ مسلح عناصر کے خلاف ہنگامی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ تصادم کے دوران سیکیورٹی فورسز کا ایک جوان شہید اور ایک زخمی ہوا، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں قانون شکن مسلح جتھے کا ایک کارندہ بھی ہلاک ہو چکا ہے۔
طلباء اور خواتین کو انسانی ڈھال بنانے کی مذموم کوششیں
سیکرٹری ایجوکیشن نے انکشاف کیا کہ عوامی تائید کھونے کے بعد کالعدم کمیٹی خواتین، معصوم بچوں اور طلبہ و طالبات کو احتجاج میں آگے لا کر انسانی ڈھال بنانے کی خطرناک حکمتِ عملی پر اتر آئی ہے۔
"بچوں کے ہاتھوں سے قلم چھین کر انہیں احتجاجی سیاست کا ایندھن بنانا نئی نسل کے مستقبل سے کھلواڑ ہے۔ تعلیمی اداروں کی جگہ درسگاہیں ہیں، احتجاجی دھرنے نہیں" — سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن
محکمہ تعلیم نے راولاکوٹ کے تمام تعلیمی اداروں کو ہنگامی ہدایات جاری کرتے ہوئے اساتذہ اور انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ طلباء کو احتجاجی سرگرمیوں سے دور رکھیں اور والدین کو فوری طور پر صورتحال سے آگاہ کریں۔
پریس کانفرنس کے اہم ترین نکات (Key Takeaways)
سیکیورٹی کارروائی: راولاکوٹ سمیت کوٹلی تا تراڑکھل شاہراہ کی بحالی کے لیے بلوچ بازار کے مقام پر کلیئرنس آپریشن کامیابی سے جاری ہے۔
جانی نقصان: مسلح شرپسندوں کے حملے میں رینجرز کا ایک جوان شہید، جبکہ جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور ہلاک۔
تعلیمی سرگرمیاں: مظفرآباد، میرپور، کوٹلی، لیپہ اور کیل میں بورڈ کلاسز کے سمر کیمپس کا 13 جولائی سے باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔
سرکاری وارننگ: تعلیمی اداروں کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے یا طلباء کو احتجاج میں ملوث پانے پر انتظامیہ کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہو گی۔
معمولاتِ زندگی کی بحالی اور سپلائی روٹس کی کلیئرنس
سیکرٹری داخلہ نے مزید بتایا کہ راولاکوٹ کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں معمولاتِ زندگی مکمل طور پر بحال ہو چکے ہیں۔ مظفرآباد، میرپور اور کوٹلی میں میڈیکل کالجز سمیت تمام تعلیمی ادارے فعال ہیں۔
حکومت نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ تمام اہم شاہراہوں کی مکمل کلیئرنس تک سیکیورٹی آپریشن جاری رہے گا تاکہ روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور کسی بھی انتشاری گروہ کو عوام کے مستقبل اور کاروبار کو یرغمال بنانے کی اجازت نہ دی جائے