آزاد کشمیر کے عوام نے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو مسترد کردیا
مظفرآباد — آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سمیت ریاست کے تمام چھوٹے بڑے اضلاع میں آج معمولاتِ زندگی پوری روانی کے ساتھ جاری رہے، جہاں کے شعور یافتہ عوام نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی جانے والی ہڑتال اور احتجاج کی کال کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
مختلف شہروں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، عوام نے قانون شکنی اور امن و امان کو خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا ہے، جس کے بعد تمام اضلاع میں رونقیں اور تجارتی سرگرمیاں حسبِ معمول بحال ہیں۔
مختلف اضلاع سے موصولہ تازہ ترین احوال اور صورتحال
ریاست کے مختلف حصوں سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی اور تجارتی صورتحال درج ذیل ہے:
تجارتی سرگرمیوں کی بحالی: میرپور، بھمبر، اور کوٹلی سمیت آزاد جموں و کشمیر کے تمام اہم شہروں میں تمام چھوٹی بڑی مارکیٹس، بازار اور کاروباری مراکز معمول کے مطابق کھلے رہے۔
تعلیمی اور سماجی رونقیں: ریاست کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے کھلے رہے اور طلبہ کی حاضری معمول کے مطابق دیکھی گئی، جبکہ سماجی و سفری سرگرمیوں پر بھی کوئی اثر نہیں پڑا۔
پرامن شہریوں کا عملی ثبوت: آزاد کشمیر کے شہریوں نے ہڑتال کی کال کو یکسر مسترد کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی قسم کے انتشار کی بجائے امن اور معاشی استحکام کے حامی ہیں۔
انتشاری سیاست کی ناکامی
تجزیہ کاروں کے مطابق، مقامی آبادی کی جانب سے اس بائیکاٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ اب عوام دھرنوں اور زبردستی کی بندشوں کی سیاست سے اکتا چکے ہیں۔ مارکیٹوں کا کھلا رہنا اور شہریوں کا سڑکوں پر نکل کر اپنے روزگار کو ترجیح دینا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کالعدم کمیٹی اب عوامی تائید کھو چکی ہے اور ریاست کے باشعور شہری کسی بھی منفی پروپیگنڈے کا حصہ بننے کو تیار نہیں ہیں۔