آزاد کشمیر انتخابات: مہاجرینِ جموں و کشمیر کا 12 مخصوص نشستیں برقرار رکھنے کا پرزور مطالبہ

آزاد کشمیر انتخابات: مہاجرینِ جموں و کشمیر کا 12 مخصوص نشستیں برقرار رکھنے کا پرزور مطالبہ

Aug 1, 2026|ویب ڈیسک

الحاقِ پاکستان کا عہد ناقابلِ سمجھوتہ ہے، آئینی نمائندگی اور شناخت کے تحفظ کے لیے مخصوص نشستیں ناگزیر ہیں: نمائندگان</h2>

​مظفر آباد (ویب ڈیسک): آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات کے موقع پر مقیم مہاجرینِ جموں و کشمیر نے اپنے حقِ رائے دہی اور سیاسی نمائندگی کے مکمل تحفظ کا اعادہ کیا ہے۔ مہاجرین کے وفود اور نمائندوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ قانون ساز اسمبلی میں ان کے لیے مختص 12 مخصوص نشستوں کو ہر صورت برقرار رکھا جائے تاکہ ان کی تاریخی شناخت، ثقافت اور سیاسی نمائندگی محفوظ رہ سکے۔

​نمائندگان کا کہنا تھا کہ ان کے آباؤ اجداد نے تحریکِ آزادیٔ کشمیر اور تکمیلِ پاکستان کے عظیم مقصد کے لیے ہجرت کی قربانی دی تھی، اور وہ آج بھی الحاقِ پاکستان کے نظریے پر کاربند رہتے ہوئے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔

​شناخت، حقِ نمائندگی اور پاکستانی قوم کو خراجِ تحسین

​مہاجرینِ جموں و کشمیر کے نمائندوں نے پریس اعلامیے اور انتخابی اجتماعات میں درج ذیل اہم نکات پر روشنی ڈالی:

​الحاقِ پاکستان کا غیر متزلزل عزم: ہماری بنیادی شناخت، سیاسی نمائندگی اور الحاقِ پاکستان کا عہد ناقابلِ سمجھوتہ ہے۔

​پاکستان کا تاریخی کردار: پاکستان نے ہر مشکل وقت میں کشمیریوں کی شناخت، تہذیب اور ثقافت کو محفوظ رکھا ہے اور ہمیں مکمل تعاون فراہم کیا ہے۔

​12 مخصوص نشستوں کی اہمیت: پاکستانی حکومت نے اسی تاریخی تسلسل اور قربانیوں کے اعتراف میں 12 مخصوص نشستیں مختص کی ہیں، جن کا خاتمہ یا تبدیلی کشمیری مہاجرین کے حقِ نمائندگی پر اثر انداز ہوگی۔

​"پاکستانی قوم ہر مشکل گھڑی میں اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو بھی جلد بھارتی تسلط سے آزادی ملے گی اور وہ اپنے آزادانہ حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔" — مہاجرینِ جموں و کشمیر

​کلیدی مطالبہ اور آئندہ کا لائحہ عمل

​آئینی تحفظ: آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی 12 نشستوں کو آئینی تحفظ فراہم کیا جائے۔

​سیاسی و ثقافتی بقا: ان نشستوں کی بقا مقبوضہ وادی کے ان شہداء اور مہاجرین کی قربانیوں کا اعتراف ہے جنہوں نے قیامِ پاکستان کی خاطر ہجرت کی