آزاد کشمیر انتخابات: ضلع باغ میں مسلم لیگ (ن) کو بڑا جھٹکا
باغ، آزاد کشمیر — آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات سے قبل ضلع باغ کی سیاست میں اس وقت ایک زبردست ہلچل مچ گئی جب مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما، معروف اسکالر بریگیڈیئر (ر) پروفیسر ڈاکٹر راجہ محمد خان اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت ن لیگ کو خیرباد کہہ کر جماعت اسلامی میں شامل ہو گئے۔ جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت نے اس موقع پر فوری فیصلہ کرتے ہوئے راجہ محمد خان کو ایل اے 15 وسطی باغ سے جماعت اسلامی کا باضابطہ انتخابی ٹکٹ بھی جاری کر دیا۔
دوسری جانب، مسلم لیگ (ن) کو اس وقت مزید بڑے دھچکے کا سامنا کرنا پڑا جب سابق وزیر حکومت راجہ یاسین نے ن لیگ کی قیادت پر "عہد شکنی اور یوٹرن پالیسی" کا الزام لگاتے ہوئے پارٹی چھوڑنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔
مرکزی قیادت کا خیرمقدم اور نئی انتخابی صف بندی
راجہ محمد خان اور ان کے ساتھیوں کی شمولیت کے لیے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے خصوصی شرکت کی۔ لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ راجہ محمد خان جیسی مقتدر شخصیت کی شمولیت سے جماعت اسلامی نہ صرف باغ بلکہ پورے آزاد کشمیر میں مزید مضبوط ہو کر ابھرے گی۔
امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر مشتاق احمد اور بزرگ سیاستدان عبدالرشید ترابی نے نو آمدہ رہنماؤں کا والہانہ خیرمقدم کیا۔
اس بڑی سیاسی تبدیلی کے اہم ترین اثرات
ن لیگ کا بڑا نقصان: سابق وزیر حکومت راجہ یاسین کی علیحدگی اور ان کی جانب سے راجہ محمد خان کی مکمل حمایت کے اعلان کے بعد مسلم لیگ (ن) کا مقامی دھڑا شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے۔
سرخ لکیریں اور نئی صف بندی: سابق وزیر راجہ یاسین نے واضح کیا ہے کہ ان کے تمام کارکن اب وسطی باغ میں جماعت اسلامی کے امیدوار کی انتخابی مہم چلائیں گے۔
وسطی باغ کا معرکہ: اس غیر معمولی سیاسی پیش رفت کے بعد ایل اے 15 وسطی باغ کا انتخابی مقابلہ انتہائی دلچسپ اور سہ فریقی رنگ اختیار کر گیا ہے، جس نے روایتی سیاسی جماعتوں کی نیندیں اڑا دی ہیں