آزاد کشمیر انتخابات: مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں مذاکرات کا چوتھا دور شروع
مظفر آباد (ویب ڈیسک): آزاد جموں و کشمیر کے پہلے مرحلے کے انتخابات سے متعلق ابھرنے والے انتخابی تنازعات، مبینہ دھاندلی کے اعتراضات اور سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور مظفر آباد میں باقاعدہ شروع ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کا اعلیٰ سطحی تین رکنی وفد وفاقی وزراء اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے ملاقات کے لیے پہنچا، جہاں دونوں جماعتوں کے مابین آئندہ کے مشترکہ سیاسی لائحہ عمل کی تدوین کے لیے تفصیلی مشاورت جاری ہےمذاکراتی وفود میں شامل اہم سیاسی قیادت</h3>
انتخابی تنازعات کو حل کرنے اور سیاسی فضا میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے دونوں جماعتوں کے سینئر رہنما میدان میں موجود ہیں:
مسلم لیگ (ن) وفد: رانا ثناء اللہ، انجینئر امیر مقام، طارق فاروق اور دیگر مرکزی و علاقائی رہنما۔
پاکستان پیپلز پارٹی وفد: قمر زمان کائرہ، وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، سید نیئر بخاری اور دیگر سینئر عہدیدار۔
مذاکرات کا ایجنڈا اور چوہدری یاسین کے حلقوں کا معمہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ نشست کے دوران پیپلز پارٹی کی جانب سے پیش کردہ مبینہ انتخابی دھاندلی کے شواہد اور اعتراضات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوبارہ پولنگ کی تجویز: مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری یاسین کے دونوں انتخابی حلقوں میں دوبارہ پولنگ کروانے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
بیان بازی کا خاتمہ: آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال کو متوازن بنانے کے لیے دونوں جانب سے جاری تند و تیز بیان بازی فوری ختم کرنے پر اتفاق رائے پیدا کیا جا رہا ہے۔
مشترکہ لائحہ عمل: مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں دونوں سیاسی فریقین آئندہ کے آئینی و انتظامی امور کے لیے مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے۔
"مظفر آباد میں جاری یہ مذاکرات آزاد کشمیر کی سیاست میں انتہائی اہم پیش رفت ثابت ہوں گے۔ مذاکرات کے اختتام پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت کی مشترکہ پریس کانفرنس بھی متوقع ہے۔" — ذرائع