آزاد کشمیر انتخابات: حلقہ ایل اے 37 جموں 4 نارووال میں عثمان علیم کے جلسے میں جوش و خروش

آزاد کشمیر انتخابات: حلقہ ایل اے 37 جموں 4 نارووال میں عثمان علیم کے جلسے میں جوش و خروش

Aug 1, 2026|ویب ڈیسک

​نارووال: آزاد جموں و کشمیر کے قانون ساز اسمبلی کے زمرے میں آنے والے اہم ترین حلقے ایل اے 37 جموں 4 (نارووال) میں انتخابی معرکہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ مرکزی مسلم لیگ کی حمایت یافتہ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ (JKUM) کے نامزد امیدوار عثمان علیم کی انتخابی مہم کے سلسلے میں لوہارہ کے مقام پر ایک انتہائی شاندار اور پراثر انتخابی جلسہ عام منعقد کیا گیا، جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے سیاسی تبدیلی کے عزم کا اظہار کیا۔

فرسودہ سیاسی نظام کے خلاف عوام متحد ہو چکے ہیں: سیاسی قیادت

​جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی و مقامی رہنماؤں نے واضح کیا کہ حلقہ ایل اے 37 کے غیور عوام ظلم، ناانصافی اور روایتی فرسودہ سیاسی نظام کے خاتمے کے لیے بیدار ہو چکے ہیں۔ قائدین کا کہنا تھا کہ لوہارہ کا یہ اجتماع اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اب اپنے بنیادی حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے متحد ہیں اور 2 اگست کو اپنے ووٹ کی طاقت سے خطے کی تقدیر بدلنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔

"اب نہ جھوٹے مقدمات بن رہے ہیں اور نہ فارم 47 میسر ہے" — چوہدری دانیال عزیز

​سابق وفاقی وزیر چوہدری دانیال عزیز نے اپنے جارحانہ اور جذباتی خطاب میں مخالفین کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا:

​"مخالفین کا اصلی نعرہ ’اک واری فیر شیر‘ نہیں بلکہ ’اک واری فیر فارم 47‘ ہے۔ ماضی میں ہمارے خلاف جھوٹے سیاسی مقدمات قائم کر کے راہ سے ہٹانے کی کوشش کی گئی، مگر اب صورتحال بدل چکی ہے۔ اب نہ مقدمات بن رہے ہیں اور نہ ہی فارم 47 کی سہولت میسر ہے، یہی وجہ ہے کہ سیاسی مخالفین پانی کے بغیر مچھلی کی طرح تڑپ رہے ہیں۔"

​چوہدری دانیال عزیز نے عوام پر زور دیا کہ وہ 2 اگست کو انتخابی نشان ’کرسی‘ پر مہر لگا کر عثمان علیم کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں اور اپنے ووٹ سے سیاسی مخالفین کو عبرتناک شکست دیں۔

"کاغذی شیر 2 اگست کو کہیں نظر نہیں آئیں گے" — ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی

​جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے کہا کہ نارووال شہر نے ہمیشہ ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کا دفاع کیا ہے اور یہی شہر اب ایک نئی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نارووال کے کاغذی شیر 2 اگست کے انتخابی نتائج کے بعد منظر عام سے غائب ہو جائیں گے۔

​جلسہ عام سے دیگر اہم رہنماؤں پیر سید اعجاز الحسن شاہ، چوہدری محمود، عرفان مہیس اور خود امیدوار عثمان علیم نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عثمان علیم کی کامیابی اصل میں عوامی خدمت اور شفاف سیاست کی کامیابی ہوگی۔