آزاد کشمیر: انارکی پھیلانے کا منصوبہ بے نقاب
مظفرآباد — آزاد جموں و کشمیر میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی ایک مبینہ کوشش اس وقت منظرِ عام پر آئی ہے جب کالعدم ایکشن کمیٹی کے کارندوں کے درمیان ہونے والی ای حساس واٹس ایپ چیٹ لیک ہو گئی۔
اس مبینہ چیٹ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی آبادی کے خلاف گروپ کے مبینہ تخریبی ایجنڈے کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے، جس کا مقصد علاقے میں خوف و ہراس پھیلانا ہے۔
واٹس ایپ چیٹ کے اہم مندرجات اور بیرونی روابط
لیک ہونے والی واٹس ایپ معلومات کے مطابق، کالعدم کمیٹی کے ایک مقامی کارندے سردار آفتاب نے بیرونِ ملک مقیم اپنے سرغنہ کو ہجیرہ کی مکمل تالہ بندی اور شٹ ڈاؤن کی رپورٹ فراہم کی۔
چیٹ کے دیگر چونکا دینے والے حقائق درج ذیل ہیں:
املاک کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی: کمیٹی کے کارندے مبینہ طور پر ان شہریوں کے گھروں کو آگ لگانے کی پلاننگ کر رہے ہیں جو ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
بیرونِ ملک سے تائید: چیٹ میں موجود ڈیٹا کے مطابق، غیر ملکی نمبر سے آپریٹ کرنے والے سرغنہ نے گھروں کو جلانے اور نقصان پہنچانے کے اس مذموم منصوبے کی مکمل حمایت اور تائید کی ہے۔
تجزیہ کاروں کی آراء: غیر ملکی ہاتھ ملوث ہونے کا شبہ
سیاسی و دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت دانستہ طور پر شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچا کر اس کا ملبہ اور الزام ریاستی اداروں پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی تھی تاکہ عوامی غصے کو ہوا دی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق، چیٹ میں غیر ملکی نمبر کا استعمال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آزاد کشمیر کے پرامن ماحول کو خراب کرنے کے لیے سرحد پار یا بیرونِ ملک بیٹھے عناصر فنڈنگ اور رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔
ادارتی مؤقف: جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن تشدد، ارسن (آگ زنی) اور انتشار کی ترغیب دینے والے عناصر کبھی بھی کشمیری عوام کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔