آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی، قیامِ امن اور 'ٹروتھ کمیشن' کے قیام کی قرارداد منظور
مظفرآباد — پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے 30 جولائی کو ریاست میں قیامِ امن، آئین و قانون کی بالادستی اور عوامی مسائل کے پائیدار حل کے لیے ایک اہم اور جامع ریفرنس قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی ہے۔
یہ اہم قرارداد پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری یاسین نے اسمبلی فلور پر پیش کی، جس میں حکومت سے ہنگامی اور انتظامی نوعیت کے بنیادی مطالبات کیے گئے ہیں۔
پرامن احتجاج کا آئینی حق اور تشدد کا ردِعمل
قرارداد کے متن میں واضح کیا گیا ہے کہ ریاستی شہریوں کو اپنے بنیادی اور جائز مطالبات کے لیے آواز اٹھانے کا مکمل جمہوری حق حاصل ہے، تاہم قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔
قرارداد میں واضح کیا گیا: "پرامن احتجاج اور جائز مطالبات پیش کرنا ہر شہری کا آئینی اور قانونی حق ہے، تاہم تشدد، اسلحہ کا استعمال، املاک کی توڑ پھوڑ اور بدامنی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ ریاست کی حاکمیت کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف شفاف عدالتی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔"
بااختیار 'ٹروتھ کمیشن' کا مطالبہ اور خدمات کی بحالی
قرارداد میں بحران کے حقیقی اسباب اور جانی و مالی نقصان کے درست تخمینے کے لیے ایک آزاد تحقیقاتی ادارے کے قیام کی اصول منظوری دی گئی ہے۔
قرارداد کے نمایاں اور اہم نکات:
'ٹروتھ کمیشن' کا قیام: موجودہ بحران کی بنیادی وجوہات، جانی و مالی نقصان اور پرتشدد واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیق کے لیے ایک بااختیار اور آزاد 'ٹروتھ کمیشن' قائم کیا جائے۔
بنیادی سہولیات کی فوری بحالی: احتجاج کے خاتمے کی توثیق کے ساتھ ہی حکومت بند راستے، انٹرنیٹ، موبائل سروسز اور تمام معاشی و شہری سرگرمیاں فوری بحال کرے۔
مذاکرات اور افہام و تفہیم: حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ عوام کے تمام جائز سیاسی، معاشی اور انتظامی مطالبات کو سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔
ہمدردی اور قومی یکجہتی: کشیدگی کے دوران جان بحق اور زخمی ہونے والے شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے تمام مکاتبِ فکر، تاجروں، سیاسی قیادت اور نوجوانوں سے امن کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی گئی