راولاکوٹ میں مسلح جتھوں کی فائرنگ، اہم شاہراہ بحال

راولاکوٹ میں مسلح جتھوں کی فائرنگ، اہم شاہراہ بحال

Jul 10, 2026|ویب ڈیسک

کالعدم ایکشن کمیٹی نے سڑکیں بند کر کے غذائی قلت پیدا کی؛ مسجدوں اور سکولوں پر قبضے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ

​راولاکوٹ: پونچھ ڈویژن کی انتظامیہ کے مطابق راولاکوٹ اور اس کے گردونواح میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کی جانب سے سڑکوں کی جبری بندش کے باعث پبلک لائف شدید مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ ترجمان انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ ان انتشاری گروہوں نے تمام اہم تجارتی راستوں پر درخت کاٹ کر اور پتھر پھینک کر ناکے لگا رکھے ہیں، جس کی وجہ سے علاقے میں اشیاء خوردونوش کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

​قانون نافذ کرنے والے اداروں پر جدید اسلحہ سے حملہ

​یہ سیکیورٹی بحران اس وقت تصادم میں تبدیل ہوا جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سول سپلائی بحال کرنے کے لیے باغ راولاکوٹ روٹ کو کلیئر کرانے کا کام شروع کیا۔

​فائرنگ کا واقعہ: کوئیڑہ پوٹھی ملوالاں کے مقام پر پہاڑیوں اور سڑکوں کے اطراف پوزیشنز سنبھالے مسلح شرپسندوں نے سیکیورٹی اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

​اسلحے کا استعمال: شرپسندوں نے جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے ہزاروں بلٹ فائر کیے، جبکہ مساجد میں جا کر لاؤڈ سپیکرز کے ذریعے شہریوں کو اشتعال دلانے کی کوشش بھی کی۔

​عمارتوں پر قبضہ: انتظامیہ کے مطابق ان جتھوں نے گزشتہ ایک ماہ سے پورے گاؤں کو یرغمال بنا رکھا تھا اور مقامی ہائی سکول اور مساجد کی عمارتوں پر ناجائز قبضہ قائم کیا ہوا تھا۔

​باغ راولاکوٹ روٹ بحال، دیگر راستوں پر آپریشن جاری

​انتظامیہ کی شدید جوابی حکمتِ عملی کے بعد پانچ بند سڑکوں میں سے اہم ترین باغ راولاکوٹ روٹ کو مکمل طور پر کلیئر کروا لیا گیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز اور تاجروں کو فی الحال کوہالہ کے محفوظ راستے سے غذائی اجناس لانے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ راولپنڈی راولاکوٹ روڈ کو کھولنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے جہاں اب بھی شرپسند ہتھیاروں کے ساتھ پوزیشن سنبھالے بیٹھے ہیں۔

​انتظامیہ کا حتمی موقف: ”گزشتہ 3 سال سے یہ عناصر گرمیوں میں لانگ مارچ کر کے مقامی ٹورزم انڈسٹری کو تباہ کر رہے ہیں۔ سرکاری مشینری کو جلانا اور اہلکاروں پر تشدد ان کا وطیرہ بن چکا ہے۔“ انتظامیہ نے واضح کیا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے شرپسندوں کی شناخت کی جا رہی ہے اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف سخت ترین قانونی ایکشن لیا جائے گا۔ مقامی میڈیا حقائق کو مسخ کر کے مسلح جتھوں کو مظلوم بنا کر پیش کرنے سے گریز کرے۔