حریت کانفرنس کی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر شدید تشویش

حریت کانفرنس کی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر شدید تشویش

Jul 25, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد — کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر و پاکستان کے کنوینر غلام محمد صفی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کے بڑھتے ہوئے مظالم، محاصروں اور گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔


اسلام آباد سے جاری ایک پریس ریلیز میں انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے وادی میں ریاستی جبر و استبداد کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے کے لیے چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔


سے زائد اضلاع میں محاصرہ اور شہریوں کی جبری حراست

غلام محمد صفی کے مطابق بھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور پولیس نے وادی کے تمام اہم علاقوں کو ہدف بنا رکھا ہے۔ تلاشی کی نام نہاد کارروائیاں درج ذیل علاقوں میں شدت سے جاری ہیں:


سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ) اور بڈگام


بارہمولہ، بانڈی پورہ اور گاندربل


پلوامہ، کولگام، شوپیاں اور سوپور


انہوں نے بتایا کہ شاہراہوں اور محلو ں میں عام شہریوں کی جامہ تلاشی لی جا رہی ہے، جس سے پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔


بھارتی مظالم کی تازہ ترین صورتحال:

3500 سے زائد گرفتاریاں: چھاپوں کے دوران ساڑھے تین ہزار سے زائد بے گناہ کشمیریوں کو حراست میں لیا گیا۔


املاک کی مسماری: انتقامی کارروائی کے طور پر دو رہائشی مکانات کو زمین بوس کر دیا گیا۔


حقِ خودارادیت پر قدغن: بنیادی شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کی کھلی ورزی۔


اقوام متحدہ اور او آئی سی سے مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل

حریت رہنما نے زور دے کر کہا کہ طاقت کے بے جا استعمال سے کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔


"گھروں پر چھاپے، بلاجواز گرفتاریاں، املاک کی تباہی اور شہری آزادیوں پر قدغنیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں، جن پر عالمی برادری کی خاموشی انتہائی افسوسناک ہے۔" — غلام محمد صفی


انہوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی (OIC)، اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا فوری نوٹس لیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق—حقِ خودارادیت—دلوانے کے لیے عملی اقدامات کریں