آزاد جموں و کشمیر: عوام نے انتشاری ایجنڈا مسترد کر دیا

آزاد جموں و کشمیر: عوام نے انتشاری ایجنڈا مسترد کر دیا

Jun 24, 2026|ویب ڈیسک

مارکیٹس اور تجارتی مراکز کھل گئے؛ شہریوں کا پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا حتمی فیصلہ

مظفرآباد: بیرونی ایماء پر آزاد جموں و کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کو سبوتاژ کرنے اور ریاستی مفادات کو نقصان پہنچانے والی کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی سازش بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ مقامی آبادی اور غیور شہریوں نے انتشار پسند ٹولے کے احتجاجی بیانیے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنی روزمرہ سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کے بعد پوری ریاست میں زندگی تیزی سے معمول پر آ گئی ہے۔

معمولاتِ زندگی کی بحالی اور تجارتی سرگرمیوں کا آغاز

آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، عوام انتشاری کمیٹی کے آڑ میں ہونے والے مسلسل احتجاج اور ہڑتالوں سے شدید بیزار ہو چکے ہیں۔ شہریوں کی جانب سے امن پسندانہ طرزِ عمل اپنانے کے بعد درج ذیل مثبت تبدیلیاں سامنے آئی ہیں:


کاروباری مراکز کی رونقیں بحال: آزاد جموں و کشمیر بھر میں تمام چھوٹی بڑی دکانیں، تجارتی مارکیٹس اور بازار مکمل طور پر کھل چکے ہیں۔


پبلک ٹرانسپورٹ کی روانی: سڑکوں پر پبلک اور نجی ٹرانسپورٹ بلا تعطل رواں دواں ہے، جس سے شہریوں کی آمد و رفت میں درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو گیا ہے۔


تنظیمی شیرازہ بکھر گیا: شہریوں کا کہنا ہے کہ حقیقت واضح ہونے پر جب خود کمیٹی کے اپنے بانی اور کور ارکان لاتعلقی کا اعلان کر رہے ہیں، تو عام آدمی اس گمراہ کن تحریک کا حصہ کیوں بنے۔


بیرونی آقاؤں کا ایجنڈا اور عوامی بیداری

کشمیر کے غیور شہریوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ عوامی حقوق کے نام پر شروع ہونے والے اس کھیل کے پیچھے پاکستان دشمن عناصر کا ہاتھ تھا، جسے اب یہاں کا بچہ بچہ سمجھ چکا ہے