آزاد کشمیر میں وزارتِ داخلہ نے مزید 4 ہزار کانسٹیبلری اور رینجرز ٹروپس طلب کر لیے
امن و امان کے قیام کیلئے وفاقی حکومت کو باضابطہ مراسلہ ارسال، نفری جلد پہنچنے کا امکان
مظفر آباد / اسلام آباد — آزاد جموں و کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور سیکیورٹی انتظامات کو مزید فول پروف بنانے کے لیے وزارتِ داخلہ آزاد کشمیر نے ایک بڑا اقدام اٹھایا ہے۔ وزارتِ داخلہ نے ریاست میں امن عامہ کے تحفظ کے لیے وفاق سے اضافی فورسز مانگ لی ہیں۔
اس سلسلے میں وزارتِ داخلہ آزاد کشمیر کی جانب سے وفاقی سیکرٹری داخلہ کو ایک باضابطہ درخواست ارسال کی گئی ہے، جس میں آزاد جموں و کشمیر میں مزید 4 ہزار کانسٹیبلری اہلکار اور رینجرز ٹروپس تعینات کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
سیکیورٹی مراسلے کے اہم نکات اور مقاصد
اضافی نفری کی تعداد: وفاق سے مجموعی طور پر 4 ہزار کانسٹیبلری کے اضافی جوانوں کی مانگ کی گئی ہے تاکہ مقامی پولیس کی معاونت کی جا سکے۔
رینجرز کی خدمات: کانسٹیبلری کے ساتھ ساتھ پاکستان رینجرز کے خصوصی ٹروپس بھی طلب کیے گئے ہیں جنہیں حساس علاقوں میں تعینات کیا جائے گا۔
سیکیورٹی اقدامات: اس اقدام کا بنیادی مقصد خطے میں کسی بھی ممکنہ امن و امان کے مسئلے سے نمٹنا اور سرکاری و عوامی املاک کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزارتِ داخلہ کی جانب سے اس درخواست پر جلد فیصلہ متوقع ہے، جس کے بعد فورسز کی آزاد کشمیر روانگی کے شیڈول کو حتمی شکل دی جائے گی