آزاد کشمیر انتخابات 2026: ضلع باغ میں نئے اتحاد کا اعلان

آزاد کشمیر انتخابات 2026: ضلع باغ میں نئے اتحاد کا اعلان

Jul 4, 2026|ویب ڈیسک

عوامی دست و بازو، جماعت اسلامی اور لبریشن لیگ ایک پلیٹ فارم پر متحد؛ مشترکہ پریس کانفرنس میں باضابطہ اعلان

باغ، آزاد کشمیر — آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات 2026 کے سلسلے میں ضلع باغ کی سیاست میں اس وقت زلزلہ آ گیا جب تین اہم سیاسی قوتوں نے روایتی و موروثی سیاست کے خلاف ایک بڑے انتخابی اتحاد کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ حلقہ LA-14 (غربی باغ/دھیرکوٹ) میں جموں و کشمیر لبریشن لیگ اور جماعت اسلامی نے عوامی دست و بازو کے چیئرمین سردار ساجد اقبال کو اپنا مشترکہ امیدوار نامزد کرتے ہوئے ان کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔

دونوں جماعتوں کے مابین کامیاب مذاکرات کے بعد باغ میں منعقدہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اس انتخابی اتحاد کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔ کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے کے آخری وقت سے ٹھیک پہلے ہونے والی اس اہم پیش رفت نے ضلع باغ کی انتخابی بساط کو مکمل طور پر الٹ کر رکھ دیا ہے۔

انتخابی اتحاد کا فارمولا اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ

ضلع باغ میں روایتی سیاسی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے اتحاد نے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا درج ذیل فارمولا طے کیا ہے:

حلقہ غربی باغ دھیرکوٹ (LA-14): عوامی دست و بازو کے چیئرمین سردار ساجد اقبال اتحادی ٹکٹ پر میدان میں اتریں گے۔ ان کی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے کے لیے لبریشن لیگ کے امیدوار نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس لے لیے ہیں۔


حلقہ وسطی باغ (LA-15): اس حلقے سے اتحاد کے متفقہ امیدوار جماعت اسلامی کے بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمد خان ہوں گے، جو روایتی حریفوں کو سخت چیلنج فراہم کریں گے۔

سیاسی تجزیہ: ماہرینِ سیاست کے مطابق، اس گرینڈ الائنس کے بعد ضلع باغ کی مقامی برادریوں اور نظریاتی ووٹرز کا ووٹ بینک یکجا ہونے سے موروثی سیاست دانوں کے لیے اپنی نشستیں بچانا ایک کڑا امتحان بن گیا ہے۔

سردار عتیق احمد خان اور راجہ مشتاق منہاس کی انتخابی مشکلات میں اضافہ

اس غیر معمولی انتخابی گٹھ جوڑ نے حلقے کے بڑے سیاسی ناموں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ انتخابی مہم میں اچانک آنے والی اس تیزی نے اضطراب کی لہر دوڑا دی ہے۔

ضلع باغ کے انتخابی معرکوں کی موجودہ صورتحال

دھیرکوٹ کا معرکہ (LA-14): عوامی دست و بازو کے سردار ساجد اقبال اب اس حلقے میں سب سے مضبوط امیدوار کے طور پر ابھرے ہیں، جہاں ان کا سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے ساتھ انتہائی کانٹے دار اور تاریخی مقابلہ متوقع ہے۔

وسطی باغ کا جوڑ (LA-15): سابق وزیرِ حکومت راجہ مشتاق منہاس کو جماعت اسلامی کے مضبوط امیدوار بریگیڈیئر (ر) محمد خان کی طرف سے زبردست مزاحمت کا سامنا ہے، اور اتحاد کی بدولت راجہ مشتاق کی مشکلات میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ضلع باغ کی سیاست میں اس نئے اتحاد کے بعد انتخابی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں اور ووٹرز کا رجحان روایتی جماعتوں کے بجائے اس نئے متبادل کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے