آزاد کشمیر بحران: بلاول بھٹو کا عوامی ایکشن کمیٹی کو جوابی خط

آزاد کشمیر بحران: بلاول بھٹو کا عوامی ایکشن کمیٹی کو جوابی خط

Jul 15, 2026|ویب ڈیسک

​اسلام آباد — پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر کے کشیدہ حالات کو سنبھالنے اور دیرپا امن قائم کرنے کے لیے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کو ایک اہم جوابی خط ارسال کیا ہے۔

​اپنے خط میں پی پی پی چیئرمین نے طاقت کے استعمال کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مذاکرات، باہمی مفاہمت اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے مسائل کو حل کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے تمام فریقین کی مشاورت سے ایک اعلیٰ سطح کے "ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن" کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کے جوابی خط کے اہم نکات

​وفاقی دارالحکومت اور مظفرآباد کے درمیان جاری اس سیاسی ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے بلاول بھٹو زرداری نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے مظاہرین کے مطالبات کی تائید کی ہے اور طاقت کا استعمال روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

​جانی نقصان پر اظہارِ افسوس: آزاد کشمیر میں حالیہ احتجاج کے دوران ہونے والے جانی نقصان کو انہوں نے قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے ہر شہری کی زندگی کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

​پرامن احتجاج کا حق: بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو 'غدار' یا 'دہشت گرد' قرار دینے کی روش ترک کی جائے۔

​شفاف تحقیقات کا مطالبہ: انہوں نے حالیہ کشیدگی اور الزامات کی ایک غیر جانبدار، شفاف اور قانون کے مطابق اعلیٰ سطح پر انکوائری کروانے پر زور دیا۔

​کشمیری شناخت کا احترام: انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ "اسلام آباد میں بیٹھ کر کسی کو بھی کشمیریوں کی حب الوطنی اور ان کی شناخت پر سوال اٹھانے کا کوئی حق نہیں ہے۔"

​کمیشن کا دائرہ اختیار اور طریقہ کار:

مجوزہ 'ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن' کا بنیادی کام تمام زمینی حقائق کا تعین کرنا، عوامی شکایات کا باریک بینی سے جائزہ لینا اور خطے کے مسائل کا ایک ایسا مستقل سیاسی و معاشی حل تجویز کرنا ہوگا جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔

​ احتجاجی قیادت اور حکومت سے اپیل

​پی پی پی چیئرمین نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت سے اپیل کی ہے کہ کمیشن کے قیام پر اصولی اتفاق ہونے کے بعد مجوزہ لانگ مارچ اور دھرنے کو عارضی طور پر معطل کیا جائے۔ دوسری جانب، انہوں نے حکومتی مقتدر حلقوں سے بھی کہا ہے کہ وہ کمیشن کی کارروائی مکمل ہونے تک خطے میں کسی بھی قسم کے سخت ترین انتظامی اقدامات اور آپریشنز سے گریز کریں۔

​انہوں نے یقین دلایا کہ اگر حکومتِ پاکستان، آزاد کشمیر کی حکومت اور مظاہرین کی نمائندہ قیادت متفق ہوں، تو پاکستان پیپلز پارٹی اس سیاسی بحران کو حل کرانے میں اپنا کلیدی اور ضامن کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔