کوٹلی تراڑکھل شاہراہ کی بحالی کے دوران مسلح جتھوں کا حملہ، 11 سیکیورٹی اہلکار زخمی

کوٹلی تراڑکھل شاہراہ کی بحالی کے دوران مسلح جتھوں کا حملہ، 11 سیکیورٹی اہلکار زخمی

Jul 14, 2026|ویب ڈیسک

کوٹلی (ویب ڈیسک): آزاد جموں و کشمیر میں کوٹلی تا تراڑکھل مرکزی شاہراہ کو کلیئر کرانے کے دوران کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں نے سیکیورٹی فورسز پر پرتشدد حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں 11 جوان شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، مسلح عناصر نے بلوچ بازار کے مقام پر شاہراہ پر غیر قانونی رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں، جس کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ معطل اور علاقے میں اشیاء خوردونوش کی نقل و حرکت مکمل طور پر رک چکی تھی۔ عوامی مشکلات کے پیشِ نظر سیکیورٹی فورسز نے سپلائی روٹس کی بحالی کے لیے کلیئرنس آپریشن شروع کیا تو مسلح جتھوں نے شدید مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔

بلوچ بازار میں ریاستی قوانین کی خلاف ورزی اور فورسز پر فائرنگ

مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کلیئرنس آپریشن کے دوران کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے ریاستی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دیسی ساختہ ہتھیاروں اور خودکار اسلحیے سے سیدھی فائرنگ کی۔

پرتشدد حملوں اور فائرنگ کے باوجود سیکیورٹی فورسز نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاہراہ کو واگزار کرانے اور شہریوں کی آمد و رفت کو محفوظ بنانے کے لیے پیش قدمی جاری رکھی۔ زخمی ہونے والے 11 اہلکاروں کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

اہم ترین حقائق اور آپریشن کی صورتحال (Key Takeaways)

جانی نقصان: مسلح جتھوں کی فائرنگ اور پتھراؤ سے سیکیورٹی فورسز کے 11 جوان زخمی۔

متاثرہ علاقہ: بلوچ بازار، کوٹلی تا تراڑکھل مین روڈ (اہم سپلائی روٹ)۔

حملے کی وجہ: پبلک ٹرانسپورٹ اور راشن کی فراہمی معطل کرنے والی غیر قانونی رکاوٹوں کو ہٹانے پر شرپسندی۔

ماہرین کا تجزیہ: سپلائی روٹس کی بندش اور مسلح مزاحمت کھلی غنڈہ گردی ہے

دفاعی اور امن و امان کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے کہ جب بھی سیکیورٹی ادارے عوام کے مطالبے پر بنیادی سپلائی روٹس کو بحال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح گروہ ان پر گھات لگا کر حملہ کر دیتے ہیں۔

"سیکیورٹی فورسز کے زخمی جوانوں کی یہ قربانی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہمارے ریاستی ادارے ہر قیمت پر امن و امان کی بحالی اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ اور تمام سپلائی روٹس کی بلا تعطل کلیئرنس کو یقینی بنانا اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔" — سیکیورٹی ماہرین