یو این کا بھارت کے نام کھلا خط؛ لاکھوں مسلمانوں کے نام ووٹر لسٹوں سے نکالنے پر جواب طلب
مغربی بنگال سمیت 12 ریاستوں میں 5 کروڑ سے زائد نام حذف، مصنوعی ذہانت کے ذریعے اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا انکشاف
نیویارک/نئی دہلی — 13 جولائی 2026: اقوامِ متحدہ (UN) کے تین خصوصی نمائندوں نے بھارتی حکومت کے نام ایک کھلا خط اور باضابطہ مراسلہ ارسال کرتے ہوئے انتخابی فہرستوں سے لاکھوں مسلمانوں اور اقلیتوں کے نام خارج کیے جانے پر سخت ترین الفاظ میں وضاحت طلب کر لی ہے۔ اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی شمار ہوگی۔ اس معاملے پر بھارت کا جواب اور اقوامِ متحدہ کا مراسلہ پبلک کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر عوامی بیان بھی جاری کیا جا سکتا ہے۔
موصولہ الزامات کے مطابق، بھارت کی 12 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں تقریباً 5 کروڑ 20 لاکھ نام ووٹر لسٹوں سے حذف کیے گئے۔ یو این نے مودی سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مذہب اور نسلی بنیاد پر خارج کیے گئے ووٹروں کا تفصیلی ڈیٹا فراہم کرے اور یہ ثابت کرے کہ انتخابی عمل میں کوئی امتیازی سلوک روا نہیں رکھا گیا۔
ہولناک اعداد و شمار اور من پسند انتخابی انجینئرنگ
اقوامِ متحدہ کے خط میں بھارتی انتخابی عمل میں اقلیتوں کو خصوصاً ٹارگٹ کرنے کے حوالے سے درج ذیل سنسنی خیز تفصیلات سامنے لائی گئی ہیں:
مغربی بنگال میں منظم ہدف: مغربی بنگال میں تقریباً 91 لاکھ نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے، جس سے مسلم اور بنگالی برادری غیر متناسب طور پر متاثر ہوئی۔
نندی گرام کی بھیانک مثال: نندی گرام کے علاقے میں حذف شدہ ووٹرز میں 95 فیصد مسلمان تھے، جبکہ اس حلقے میں مجموعی طور پر مسلم ووٹر محض 25 فیصد ہیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) کا غلط استعمال: الزامات کے مطابق، بی جے پی حکومت کی جانب سے من پسند انتخابی عمل اور اقلیتوں کی نشان دہی کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کا منظم استعمال کیا گیا۔
اپیلوں کی عدم سماعت: مغربی بنگال کے اپریل 2026ء کے انتخابات سے قبل شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی تقریباً 34 لاکھ اپیلوں کو جان بوجھ کر حل ہی نہیں کیا گیا، جس سے لاکھوں لوگ حقِ رائے دہی سے محروم ہو گئے۔
بی جے پی رہنماؤں کا نسل پرستانہ رویہ: یو این نے بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کے سرکاری نمائندوں کی تقاریر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جو مسلسل اقلیتوں کے خلاف امتیازی اور نسل پرستانہ رویوں کو فروغ دے رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے بھارت سے اپیلوں، اعتراضات اور ان کے فیصلوں کی مکمل تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل میں شفافیت اور غیرجانبداری یقینی بنانے کا سخت مطالبہ کیا ہے