کشمیری پنڈتوں کو دھمکیاں ڈرامہ، مودی سرکار ریاستی حیثیت پر ڈاکہ ڈال رہی ہے: فاروق عبداللہ

کشمیری پنڈتوں کو دھمکیاں ڈرامہ، مودی سرکار ریاستی حیثیت پر ڈاکہ ڈال رہی ہے: فاروق عبداللہ

Sep 3, 2026|ویب ڈیسک

کشمیری پنڈتوں کو دھمکیاں ڈرامہ، مودی سرکار ریاستی حیثیت پر ڈاکہ ڈال رہی ہے: فاروق عبداللہ

سری نگر: مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے وادی میں مبینہ شدت پسندی اور کشمیری پنڈتوں کو لاحق خطرات سے متعلق مودی حکومت کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے اسے خطے کی آئینی اور ریاستی حیثیت کو ختم کرنے کی گہری سازش قرار دیا ہے۔


انہوں نے باور کرایا کہ اگر وادی میں حالات معمول پر ہیں اور شدت پسندی کا خاتمہ ہو چکا ہے، تو پھر ایسی مشکوک دھمکیوں کا اچانک سامنے آنا سوالیہ نشان ہے۔


مودی سرکار کے سیکیورٹی دعوے اور تضادات

فاروق عبداللہ نے بھارتی دعوؤں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر خطے میں مقامی کشمیری پنڈتوں کو خطرات لاحق ہیں تو باہر سے تعینات کیے گئے دیگر ہندو افسران کو ایسی دھمکیاں کیوں نہیں ملتیں؟


انہوں نے انتظامیہ کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ:


جموں و کشمیر میں پولیس اور سول انتظامیہ کے تمام اختیارات براہِ راست لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہیں۔


امن و امان کی مجموعی صورتحال اور سیکیورٹی کی ناکامی پر جوابدہی لیفٹیننٹ گورنر کی بنتی ہے۔


یہ دھمکیاں باہر سے نہیں آ رہیں بلکہ خود قابض انتظامیہ کے اندر سے تراشی جا رہی ہیں۔

مقبوضہ وادی پر تسلط کا مستقل جواز

سیاسی مبصرین کے مطابق، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کشمیری پنڈتوں کے نام نہاد سیکیورٹی بحران کو عالمی سطح پر پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اس مصنوعی بیانیے کا بنیادی مقصد وادی میں لاکھوں قابض فوجیوں کی مسلسل موجودگی کا جواز تراشنا اور کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی آواز کو دبانا ہے