ستمبر 1965ء کی جنگ کا دسواں روز: پاک فوج کے بہادر افسران اور جوانوں کی لازوال قربانیوں کی یاد

ستمبر 1965ء کی جنگ کا دسواں روز: پاک فوج کے بہادر افسران اور جوانوں کی لازوال قربانیوں کی یاد

Sep 10, 2026|ویب ڈیسک

ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دسویں روز پاک فوج کے افسران اور جوانوں نے وطنِ عزیز کے دفاع کی خاطر شجاعت اور بہادری کی بے مثال تاریخ رقم کرتے ہوئے جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ 10 ستمبر کو مختلف محاذوں پر لڑتے ہوئے بریگیڈیئر احسن راشد شامی، میجر علی عابد حسین، کیپٹن محمد حمید اللہ، میجر شیخ مبارک علی، میجر شیخ ظہور الدین اور لیفٹیننٹ احمد منیر نے جامِ شہادت نوش کیا۔

قصور سیکٹر میں آرمر ڈویژن کے آرٹلری کمانڈر بریگیڈیئر احسن راشد شامی نے دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ وہ 10 ستمبر کو پیش قدمی کرتے ہوئے بھارتی حدود میں داخل ہوئے جہاں مشین گن کے برسٹ کا نشانہ بن کر شہید ہو گئے۔ ان کی غیر معمولی شجاعت کے اعتراف میں حکومت نے انہیں بعد از شہادت ’ہلالِ جرأت‘ سے نوازا۔

اسی سیکٹر میں آرٹلری رجمنٹ کی کمان سنبھالنے والے میجر علی عابد حسین کرن سیکٹر کے محاذ پر دشمن کے تباہ شدہ مورچوں کا جائزہ لیتے ہوئے بھارتی فائرنگ کی زد میں آ کر شہید ہوئے۔ دریں اثنا، میجر شیخ ظہور الدین بھی قصور کے محاذ پر پیش قدمی کے دوران کھیم کرن عبور کر کے بھارتی علاقے ’اصل اُتار‘ میں داخل ہوئے اور بہادری سے لڑتے ہوئے وطن پر قربان ہو گئے۔

نارووال میں جسر پل پر فارورڈ آبزرویشن آفیسر کے فرائض انجام دینے والے کیپٹن محمد حمید اللہ خان دشمن کا شیل لگنے سے شہید ہوئے، جبکہ کرن سیکٹر میں انفنٹری بٹالین کے لیفٹیننٹ احمد منیر احمد نے بھارتی فوج کی پیش قدمی روکتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کیا۔ لیفٹیننٹ احمد منیر کو ان کی جرأت کے اعتراف میں بعد از شہادت ’ستارۂ جرأت‘ دیا گیا۔

باٹا پور جی ٹی روڈ پر بی آر بی نہر کے دفاع کی اہم ذمے داری سنبھالنے والے پنجاب رجمنٹ کے میجر شیخ مبارک علی نے دیال گاؤں سے بھارتی فوج کو پسپا کرنے کے دوران مشین گن کا برسٹ لگنے کے بعد جامِ شہادت نوش کیا۔ انہیں بھی بعد از شہادت ’ستارۂ جرأت‘ سے نوازا گیا۔ 10 ستمبر 1965ء کو دفاعِ وطن میں جانیں نچھاور کرنے والے شہدا کی قربانیاں ملکی تاریخ کا سنہرا باب ہیں۔