راولاکوٹ: کالعدم تنظیم کے چنگل سے بازیاب 8 پولیس اہلکاروں کا لرزہ خیز احوال

راولاکوٹ: کالعدم تنظیم کے چنگل سے بازیاب 8 پولیس اہلکاروں کا لرزہ خیز احوال

Aug 19, 2026|ویب ڈیسک

راولاکوٹ: آزاد جموں و کشمیر میں امن و امان کے فرائض کی انجام دہی کے بعد واپس لوٹنے والے ہائی وے پولیس کے 8 اہلکاروں کو کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح عناصر کی حراست سے بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ بازیاب ہونے والے اہلکاروں نے قید کے دوران پیش آنے والے پُرتشدد واقعات، حبسِ بے جا اور دباؤ کے لرزہ خیز انکشافات کیے ہیں۔


قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی عمل میں لاتے ہوئے مغوی اہلکاروں کو مسلح جتھے کے قبضے سے چھڑایا، جسے ریاستی رٹ اور قانون کی عمل داری یقینی بنانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔


یرغمالی کے دوران تشدد اور ریاست مخالف نعرے لگوانے کی کوشش

بازیاب اہلکاروں نے اپنے بیانات میں انکشاف کیا کہ ڈیوٹی مکمل کر کے واپسی کے دوران جدید اسلحے اور دستی بموں سے لیس مسلح جتھوں نے انہیں گھیرے میں لے کر یرغمال بنایا۔


اہلکاروں کے مطابق دورانِ حراست ان کے ساتھ انتہائی غیر انسانی اور پُرتشدد سلوک کیا گیا اور ان پر زبردستی پاکستان اور پاک فوج کے خلاف نعرے بازی کے لیے شدید دباؤ ڈالا گیا۔


بازیاب اہلکاروں کے بیانات کے اہم نکات:

جدید اسلحے کا استعمال: اغوا کاروں کے پاس خودکار ہتھیار، جدید اسلحہ اور ہینڈ گرینیڈز موجود تھے۔


انسانی ڈھال کا استعمال: مسلح جتھوں نے کارروائی سے بچنے کے لیے دھرنے میں خواتین اور بچوں کو بطور ڈھال آگے کر رکھا تھا۔


منظم تشدد: اہلکاروں کو جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنا کر ریاست مخالف بیانیہ اپنانے پر مجبور کیا گیا۔


قانون شکنی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا عزم

سرکاری و سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ مذکورہ عناصر کا مقصد عوامی مسائل کا حل نہیں بلکہ امن و امان کو سبوتاژ کرنا اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام شرپسندوں کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی