جی سیون سمٹ میں نریندر مودی کی شرکت اور صدر ٹرمپ سے ملاقات پر بھارت میں شدید تنقید
اپولیا: جی سیون سمٹ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی شرکت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی ملاقات کو عالمی اور مقامی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خود کو عالمی رہنما کے طور پر پیش کرنے والے مودی کی امریکی صدر کے ساتھ گفتگو کے دوران مبینہ بوکھلاہٹ اور اعتمادی کی کمی پر بھارتی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔
عالمی جریدے الجزیرہ کا مودی کے ماضی کے حوالے سے بڑا انکشاف
بین الاقوامی میڈیا نیٹ ورک 'الجزیرہ' کی ایک رپورٹ کے مطابق، جی سیون سمٹ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کی ملاقات انتہائی سنسنی خیز رہی، جہاں ٹرمپ نے مودی کے ماضی کے حوالے سے سخت ترین الفاظ استعمال کیے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ مودی کے دورِ حکومت میں 2002 میں ہونے والے گجرات فسادات کے دوران سینکڑوں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کا عکس اب بھی ان کی عالمی ساکھ پر نظر آتا ہے۔
"ٹیلی پرامپٹر کے سہارے طویل تقریریں کرنے والے مودی ہاتھ میں پرچی (نوٹس) ہونے کے باوجود امریکی صدر کے سامنے پراعتماد انداز میں گفتگو کرنے میں ناکام رہے۔"
بھارتی نوجوانوں اور سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل
اس ملاقات کے بعد بھارتی سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی مختلف تحریکوں اور طنزیہ صفحات کی جانب سے مودی کی سفارتی صلاحیتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ بغیر پرامپٹر کے عالمی رہنماؤں کے سامنے بات چیت نہ کر پانا ملکی سفارت کاری کے لیے خفت کا باعث بن رہا ہے۔
سخت امریکی ٹیرف اور سشانت سارین کا تجزیہ
بھارت کے معروف دفاعی و سیاسی تجزیہ کار سشانت سارین نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے اس بار بھی بھارت پر سخت تجارتی ٹیرف اور سٹریٹجک دباؤ برقرار رکھا ہے، اور تعلقات کی بحالی محض ایک دکھاوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت امریکہ کے اس سخت گیر رویے پر آنکھیں بند کر کے بھارتی عوام سے سچ چھپانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیںاپولیا: جی سیون سمٹ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی شرکت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی ملاقات کو عالمی اور مقامی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خود کو عالمی رہنما کے طور پر پیش کرنے والے مودی کی امریکی صدر کے ساتھ گفتگو کے دوران مبینہ بوکھلاہٹ اور اعتمادی کی کمی پر بھارتی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔
عالمی جریدے الجزیرہ کا مودی کے ماضی کے حوالے سے بڑا انکشاف
بین الاقوامی میڈیا نیٹ ورک 'الجزیرہ' کی ایک رپورٹ کے مطابق، جی سیون سمٹ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کی ملاقات انتہائی سنسنی خیز رہی، جہاں ٹرمپ نے مودی کے ماضی کے حوالے سے سخت ترین الفاظ استعمال کیے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ مودی کے دورِ حکومت میں 2002 میں ہونے والے گجرات فسادات کے دوران سینکڑوں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کا عکس اب بھی ان کی عالمی ساکھ پر نظر آتا ہے۔
"ٹیلی پرامپٹر کے سہارے طویل تقریریں کرنے والے مودی ہاتھ میں پرچی (نوٹس) ہونے کے باوجود امریکی صدر کے سامنے پراعتماد انداز میں گفتگو کرنے میں ناکام رہے۔"
بھارتی نوجوانوں اور سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل
اس ملاقات کے بعد بھارتی سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی مختلف تحریکوں اور طنزیہ صفحات کی جانب سے مودی کی سفارتی صلاحیتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ بغیر پرامپٹر کے عالمی رہنماؤں کے سامنے بات چیت نہ کر پانا ملکی سفارت کاری کے لیے خفت کا باعث بن رہا ہے۔
سخت امریکی ٹیرف اور سشانت سارین کا تجزیہ
بھارت کے معروف دفاعی و سیاسی تجزیہ کار سشانت سارین نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے اس بار بھی بھارت پر سخت تجارتی ٹیرف اور سٹریٹجک دباؤ برقرار رکھا ہے، اور تعلقات کی بحالی محض ایک دکھاوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت امریکہ کے اس سخت گیر رویے پر آنکھیں بند کر کے بھارتی عوام سے سچ چھپانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں