مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مابین تاریخی مشترکہ سیکورٹی معاہدے کا اعلان
مکہ مکرمہ (ویب ڈیسک): ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ایک تاریخی "مشترکہ دفاعی معاہدے" کی توثیق کر دی ہے۔ ترکیہ کے صدر نے یہ اہم اعلان اپنے سرکاری ’ایکس‘ (ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کیا۔
صدر ایردوان کے مطابق، انہوں نے سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی پرخلوص دعوت پر مکہ مکرمہ کا دورہ کیا، جہاں سعودی ولی عہد اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ اہم سہ فریقی ملاقات ہوئی۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران تینوں برادر ممالک نے دفاعی اور سیکورٹی تعاون کے ایک جامع فریم ورک پر دستخط کیے۔
معاہدے کے اہم نکات اور تکنیکی خصوصیات
اجتماعی دفاعی صلاحیت: یہ معاہدہ تینوں ممالک کی مشترکہ سیکورٹی، دفاعی تیاریوں اور دفاعی صنعت کے فروغ کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔
دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات: معاہدے کے تحت خطے میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مؤثر اور عملی تعاون بڑھایا جائے گا۔
اقوام متحدہ کے چارٹر کی توثیق: صدر ایردوان نے واضح کیا کہ یہ دفاعی معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 میں بیان کردہ دفاعِ خود اختیاری (Self-Defense) کے اصول کی کامل توثیق کرتا ہے۔
امن، خوشحالی اور سفارتی موقف
ترک صدر نے اس تاثر کی نفی کی کہ یہ معاہدہ کسی خاص ملک کے خلاف ہے، اور زور دیا کہ:
"یہ معاہدہ کسی کے خلاف نبرد آزما ہونے کے لیے نہیں، بلکہ خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے خواہاٰں تمام برادر ممالک کی شمولیت کے لیے ہمیشہ کھلا رہے گا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ تنازعات اور بحرانوں کے حل کے لیے بات چیت اور سفارتکاری کے اپنے اصولی موقف پر قائم رہے گا۔ صدر ایردوان نے اختتام پر دعائیہ کلمات ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مکہ مکرمہ میں طے پانے والا یہ تاریخی معاہدہ پورے خطے کے لیے خیر، برکت، امن اور استحکام کا باعث بنے گا۔