خیبرپختونخوا کے عوام کا انتظامی بنیادوں پر مزید صوبوں کے قیام کا مطالبہ
پشاور (ویب ڈیسک): خیبرپختونخوا کے شہریوں نے ملک کو ایک فعال اور مضبوط ریاست بنانے کے لیے مزید انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کے قیام کو وقت کی اہم ضرورت اور ناگزیر قرار دے دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ملک میں بہتر حُسنِ انتظام اور عوام کو بنیادی سہولیات کی ان کی دہلیز پر فراہمی کے لیے صوبوں کی تعداد میں اضافہ کا سوچنا حکومت کا ایک مثبت اور خوش آئند قدم ہے۔
موجودہ 4 صوبائی ڈھانچے کے چیلنجز اور عوامی مشکلات
کے پی کے کے مختلف اضلاع کے شہریوں کا موقف ہے کہ پاکستان میں اس وقت صرف چار صوبے ہونے کی وجہ سے حکومت کے لیے عام آدمی تک یکساں سہولیات اور بنیادی حقوق پہنچانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جغرافیائی وسعت اور آبادی کے دباؤ کے باعث دور دراز اور پس ماندہ اضلاع صوبائی دارالحکومتوں سے نظر انداز ہو جاتے ہیں۔: ڈویژنل سطح پر انتظامی تقسیم اور مقامی نمائندگی
شہریوں نے ملک میں گورننس کا نظام بہتر بنانے کے لیے عملی تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام ڈویژنل سطح پر کیا جانا چاہیے۔
ڈویژنل ماڈل کے فوائد
• اسمبلیوں پر بوجھ میں کمی: ڈویژنل سطح پر تقسیم سے ایک ہی صوبائی اسمبلی پر بڑی آبادی کا انحصار ختم ہو جائے گا۔
• مقامی کابینہ اور حکومت: ہر ڈویژن کو اپنی آزاد کابینہ اور مؤثر سیاسی و انتظامی نمائندگی ملے گی۔
• مسائل کا فوری حل: مقامی مسائل کو حل کرنے کے لیے شہریوں کو صوبائی دارالحکومت کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔
سرکاری محکموں کی کارکردگی میں بہتری کی امید
عوام کا مزید کہنا تھا کہ چھوٹے انتظامی یونٹس قائم ہونے سے سرکاری محکموں کی نگرانی آسان ہو جائے گی، جس سے کرپشن اور بیوروکریٹک تاخیر کا خاتمہ ہوگا۔ انتظامی اصلاحات کے ذریعے عوامی مسائل کو مقامی سطح پر ہی حل کر کے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے