کشمیر کی 9,765 لاپتا خواتین اور لڑکیاں عالمی توجہ کی منتظر
2019 کے بعد جموں و کشمیر سے تقریباً 10 ہزار خواتین اور لڑکیوں کی گمشدگی: وہ کہاں ہیں؟
اطلاعات کے مطابق 2019 کے بعد سے جموں و کشمیر سے تقریباً 10 ہزار خواتین اور لڑکیاں لاپتا ہو چکی ہیں۔ بھارتی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے کمار کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 9,765 خواتین، جن میں 18 سال سے کم عمر 1,148 لڑکیاں بھی شامل ہیں، لاپتا رپورٹ ہوئی ہیں۔ اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو یہ جنوبی ایشیا کے سنگین ترین اور کم توجہ حاصل کرنے والے انسانی حقوق کے مسائل میں سے ایک ہے۔ تاہم سب سے اہم سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: وہ کہاں ہیں؟
کئی دہائیوں سے کشمیر تنازع، عسکریت، بھاری فوجی موجودگی، من مانی گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات کے باعث عالمی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ ہزاروں خاندان آج بھی اپنے لاپتا عزیزوں کے بارے میں جواب کے منتظر ہیں، جبکہ غیر نشان زدہ قبروں اور طویل حراست سے متعلق رپورٹس پر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔
اس طویل تاریخ کے باوجود ایک پہلو خاص طور پر تشویشناک ہے: 2019 کے بعد سے جموں و کشمیر سے 9,765 خواتین اور لڑکیوں کی گمشدگی۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ بیٹیاں، مائیں، بہنیں، بیویاں اور طالبات ہیں جن کے اہل خانہ آج بھی ان کی تلاش میں ہیں۔ سوال وہی ہے: وہ کہاں ہیں؟
رپورٹس کے مطابق ان میں سے بڑی تعداد اب تک لاپتا ہے۔ وائس آف امریکہ نے لاپتا خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد پر حکام کے ردعمل کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے کی نشاندہی کی، جبکہ "کشمیر لائف" کے مطابق خصوصاً ضلع کٹھوعہ میں تقریباً ہر ماہ نئی گمشدگیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ ان واقعات نے مقامی آبادی میں خوف اور بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
کشمیر میں لاپتا افراد کا مسئلہ نیا نہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، اقوام متحدہ اور امریکی محکمہ خارجہ کی انسانی حقوق سے متعلق رپورٹس سمیت مختلف بین الاقوامی اداروں نے برسوں سے جبری گمشدگیوں، غیر قانونی ہلاکتوں، تشدد اور اجتماعی قبروں سے متعلق الزامات کا ذکر کیا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق گزشتہ دہائیوں میں 8,000 سے 10,000 افراد جبری طور پر لاپتا ہوئے۔ ان کی بیویوں کو "آدھی بیوائیں" (Half-Widows) کہا جانے لگا کیونکہ انہیں کبھی یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ان کے شوہر زندہ ہیں یا وفات پا چکے ہیں۔
اب ایک نئی نسل اسی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ گمشدگیاں اگست 2019 کے بعد متعارف کرائی گئی سیاسی اور قانونی تبدیلیوں کے پس منظر میں سامنے آئی ہیں۔ گزشتہ ماہ "انسٹی ٹیوٹ آف وائسز آف وکٹمز" نے Systematic Suppression of the Right to Self-Determination in Kashmir (2019–2026) کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا کہ سیاسی دباؤ، آبادیاتی تبدیلی، معاشی پالیسیوں، نگرانی، جائیدادوں کی ضبطگی، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور نئے ڈومیسائل قوانین نے کشمیریوں کے شہری اور سیاسی حقوق کو محدود کر دیا ہے۔
ناقدین نے ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کے نظام میں توسیع پر بھی اعتراض اٹھایا ہے، جس نے ماضی کے "اسٹیٹ سبجیکٹ" نظام کی جگہ لے لی۔ ان کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد خطے کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنا ہے، جبکہ بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد انضمام کو فروغ دینا اور مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔
سیاسی اختلافِ رائے بھی پہلے سے زیادہ خطرناک ہو گیا ہے۔ ممتاز علیحدگی پسند رہنماؤں اور کارکنوں، جن میں محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، مسرت عالم بٹ، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین شامل ہیں، کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) اور پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) جیسے قوانین کے تحت مقدمات یا طویل حراست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان قوانین کے ذریعے طویل حراست ممکن بنائی جاتی ہے اور ان کا استعمال پرامن اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی قانون بھی ان معاملات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) اور بین الاقوامی عہدنامہ برائے معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق (ICESCR) دونوں کا آرٹیکل 1 عوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرتا ہے۔ اسی طرح چوتھا جنیوا کنونشن اجتماعی سزا، آبادیاتی تبدیلی، جبری نقل مکانی اور زیرِ تحفظ شہری آبادی میں مداخلت کی ممانعت کرتا ہے۔ تاہم کشمیر پر ان قوانین کے اطلاق اور تشریح بین الاقوامی قانونی اور سیاسی سطح پر بحث کا موضوع ہے، اگرچہ انسانی حقوق کے متعدد کارکن ان کا حوالہ دیتے ہیں۔
ان تمام معاملات کے درمیان ہزاروں خواتین اور لڑکیوں کی گمشدگی فوری، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی متقاضی ہے۔
ایگزیٹر یونیورسٹی کی محقق ڈاکٹر زینب ظفر نے تنازعات کے دوران جنسی تشدد کے استعمال پر تحقیق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صنفی بنیاد پر تشدد کو تاریخی طور پر کمیونٹیز کو خوفزدہ کرنے اور اختلافِ رائے دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ان کے مطابق آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد کشمیری خواتین کے بارے میں عوامی بیانیے نے ان کی سلامتی سے متعلق خدشات میں مزید اضافہ کیا۔ اسی طرح کینیڈین محقق تزئین حسن کا مؤقف ہے کہ خوف، سیاسی محرومی اور شہری آزادیوں پر پابندیوں نے لاپتا خواتین کے معاملے پر خاموشی کا ماحول پیدا کیا ہے۔ ان خدشات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
تقریباً 10 ہزار خواتین اور لڑکیوں کی گمشدگی صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ سیاسی مؤقف، نظریے یا آئینی دعووں سے قطع نظر ہر لاپتا خاتون کو تلاش کیا جانا چاہیے، ہر خاندان کو سچ جاننے کا حق حاصل ہے اور ہر الزام کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔
اس سے قبل فروری 1991 میں کنن اور پوش پورہ کے دیہات میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا واقعہ بھی کشمیری عوام کے اجتماعی شعور پر گہرے اثرات چھوڑ چکا ہے۔ متاثرین اور انسانی حقوق کے کارکن دہائیوں سے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ بہت سی کشمیری خواتین کے نزدیک ایسے حل طلب مقدمات انصاف کی عدم فراہمی اور احتساب سے استثنیٰ کی علامت ہیں۔
بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ ان گمشدگیوں کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرے، متاثرہ خاندانوں کو معلومات تک رسائی یقینی بنائے اور جہاں شواہد موجود ہوں وہاں احتساب کے مؤثر نظام کی حمایت کرے۔ انسانی حقوق کا اطلاق ہر فرد پر یکساں ہونا چاہیے، خواہ اس کی قومیت، مذہب یا سیاسی وابستگی کچھ بھی ہو۔
تاریخ حکومتوں کا فیصلہ صرف ان کے فراہم کردہ تحفظ کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس بنیاد پر بھی کرے گی کہ انہوں نے انسانی حقوق کا کس حد تک تحفظ کیا۔ جب تک ان 9,765 خواتین اور لڑکیوں کے بارے میں معتبر تحقیقات کے ذریعے حقیقت سامنے نہیں آتی، کشمیر میں ایک سوال مسلسل گونجتا رہے گا:
وہ کہاں ہیں؟
ڈاکٹر غلام نبی فائی
سیکریٹری جنرل، ورلڈ کشمیر اویئرنیس فورم