کشمیر، اقوامِ متحدہ اور امن کی جستجو
23 جولائی 2026 کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں "تنازعات کے پرامن تصفیے کے طریقۂ کار کو مضبوط بنانے" کے موضوع پر منعقدہ اعلیٰ سطح اجلاس اس حقیقت کی بروقت یاد دہانی تھا کہ جنگوں کی روک تھام کے لیے سفارت کاری آج بھی انسانیت کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ یہ اجلاس سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 (2025) کے تسلسل میں منعقد کیا گیا، جو جولائی 2025 میں پاکستان کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی۔ اجلاس کی صدارت جمہوریہ کانگو کی وزیر خارجہ، محترمہ تھیریس کائیکوامبا ویگنر نے کی، جبکہ دنیا بھر سے چھ درجن سے زائد وفود نے اس میں شرکت کی۔
یہ بحث ایسے وقت میں ہوئی جب دنیا بھر میں تنازعات کی تعداد، شدت اور پیچیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی قانون کو غیر معمولی چیلنجز درپیش ہیں اور کثیرالجہتی سفارت کاری پر عالمی اعتماد آزمائش سے گزر رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس صورتحال کی نہایت مؤثر انداز میں نشاندہی کرتے ہوئے خبردار کیا کہ موجودہ دور کے تنازعات میں بین الاقوامی قانون کی تشویشناک حد تک خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ہر وہ خلاف ورزی جس کا احتساب نہ کیا جائے، آئندہ خلاف ورزیوں کے لیے ایک خطرناک نظیر بن جاتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ قرارداد 2788 تمام رکن ممالک پر زور دیتی ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے منشور میں موجود تنازعات کے پرامن حل کے تمام ذرائع سے بھرپور استفادہ کریں اور سلامتی کونسل کی باب ششم کے تحت ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں ادا کریں۔ انہوں نے یہ عزم بھی دہرایا کہ وہ ثالثی، مصالحت اور پیشگی سفارت کاری کے فروغ کے لیے اپنے Good Offices کا استعمال جاری رکھیں گے۔
سلامتی کونسل کی ماہانہ صدر اور جمہوریہ کانگو کی وزیر خارجہ تھیریس کائیکوامبا ویگنر نے بھی اسی مؤقف کو تقویت دیتے ہوئے کہا کہ تنازعات کا پرامن حل اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی ستونوں میں شامل ہے۔ انہوں نے ابتدائی انتباہی نظام، پیشگی سفارت کاری، ثالثی اور مکالمے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سیاست میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ تاخیر سے کی جانے والی سفارت کاری، درحقیقت سفارت کاری سے انکار کے مترادف ہوتی ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اس موقع پر کہا کہ قرارداد 2788 ایک بنیادی اور فوری اصول کی توثیق کرتی ہے کہ سفارت کاری کو صرف اس وقت استعمال نہیں کیا جانا چاہیے جب امن پہلے ہی تباہ ہو چکا ہو۔ انہوں نے سیکریٹری جنرل کی سفارشات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان پر عمل درآمد نہ صرف تنازعات کے پرامن حل کے عالمی نظام کو مضبوط کرے گا بلکہ اقوامِ متحدہ کے منشور کی ساکھ میں بھی اضافہ کرے گا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے مزید کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سفارتی روایات تنازعات کے پرامن حل پر غیر متزلزل یقین کی عکاس ہیں۔ جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والے مسئلہ جموں و کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف بدستور یہی ہے کہ اس کا حل سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، جن میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے اور یہ طے کیا گیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے کیا جائے گا۔
چین، امریکہ، لٹویا، ترکیہ، انڈونیشیا اور دیگر متعدد ممالک کے نمائندوں نے بھی بین الاقوامی قانون کے احترام، مؤثر پیشگی سفارت کاری، ثالثی اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے مضبوط سیاسی عزم پر زور دیا۔ مجموعی طور پر اس بات پر وسیع اتفاقِ رائے سامنے آیا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں کا اطلاق بلاامتیاز اور یکساں ہونا چاہیے۔
یہ اتفاقِ رائے ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے: اگر عالمی برادری واقعی تنازعات کے پرامن حل پر یقین رکھتی ہے تو کیا وہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود دنیا کے قدیم ترین حل طلب تنازعات میں سے ایک، یعنی جموں و کشمیر کو مسلسل نظرانداز کر سکتی ہے؟
جموں و کشمیر کا تنازع سات دہائیوں سے زائد عرصے سے اقوامِ متحدہ کے سامنے زیر غور ہے۔ سلامتی کونسل کی سولہ سے زیادہ بنیادی قراردادیں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کرتی ہیں اور اس بات کی توثیق کرتی ہیں کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے کیا جائے۔ خواہ کوئی پاکستان کے قانونی و سیاسی مؤقف سے اتفاق کرے یا بھارت کے مؤقف سے، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کشمیر آج بھی ایک حل طلب تنازع ہے جس کے اثرات علاقائی اور عالمی امن پر مسلسل مرتب ہو رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ میں بھارت کے مستقل مندوب سفیر پروتھانینی ہریش نے مؤقف اختیار کیا کہ سلامتی کونسل کو "دہائیوں پرانے معاملات" کو "فرسودہ اور غیر متعلقہ مینڈیٹس" کے تحت زیر غور نہیں رکھنا چاہیے۔ انہوں نے ایک بار پھر بھارت کا روایتی مؤقف دہرایا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔
تاہم، محض وقت گزر جانے سے بین الاقوامی ذمہ داریاں ختم نہیں ہو جاتیں۔ اگر صرف مدت گزرنے سے عالمی معاہدے اور قانونی ذمہ داریاں غیر مؤثر ہو جائیں تو بین الاقوامی قانون کے بے شمار معاہدے اور خود اقوامِ متحدہ کا منشور بھی اپنی قانونی حیثیت کھو بیٹھے گا۔ بین الاقوامی ذمہ داریاں اس وقت تک برقرار رہتی ہیں جب تک ان پر عمل نہ ہو جائے یا انہیں قانونی طریقے سے تبدیل نہ کیا جائے۔
تاریخ بھی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ بھارت اور پاکستان دو ایٹمی طاقتیں ہیں جن کے درمیان کئی بار کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ اپریل 2025 میں پہلگام حملے کے بعد پیدا ہونے والے بحران نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ حالات کس تیزی سے تصادم کی طرف جا سکتے ہیں۔ ایسے نازک مرحلے پر امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی بروقت سفارتی مداخلت کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی، جس نے خطے کو ایک ممکنہ ایٹمی تصادم سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مستقبل میں کسی بھی غلط اندازے کے نتائج نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
اسی تناظر میں جاپان کے سابق نائب وزیر اعظم تسوٹومو ہاتا نے خبردار کیا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ سابق صدر عالمی بینک جیمز وولفنسن نے بھی کہا تھا کہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے اس تنازع کا منصفانہ اور قابلِ قبول حل ناگزیر ہے۔ ممتاز مورخ پروفیسر اسٹینلے وولپرٹ نے کشمیر کو برصغیر کی تقسیم کے بعد کا سب سے اہم حل طلب مسئلہ قرار دیا، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پوتن بھی متعدد مواقع پر بھارت اور پاکستان پر زور دے چکے ہیں کہ وہ علاقائی اور عالمی امن کے مفاد میں اس تنازع کا حل تلاش کریں۔
حالیہ برسوں میں انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے پروین دونتھی نے بھی اس امر پر زور دیا کہ کسی بھی پائیدار امن عمل کے لیے ضروری ہے کہ کشمیری عوام خود مذاکراتی عمل میں مؤثر نمائندگی حاصل کریں۔
سلامتی کونسل کے اس اجلاس سے حاصل ہونے والا بنیادی سبق نہایت واضح ہے۔ تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں کا اطلاق انتخابی بنیادوں پر نہیں ہو سکتا۔ یا تو اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصول تمام بین الاقوامی تنازعات پر یکساں طور پر نافذ ہوں گے، یا پھر ان کی عالمگیر حیثیت اور اخلاقی ساکھ متاثر ہوگی۔
اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2(3) میں واضح طور پر کہا گیا ہے:
"تمام رکن ممالک اپنے بین الاقوامی تنازعات کو پرامن ذرائع سے اس انداز میں حل کریں گے کہ بین الاقوامی امن، سلامتی اور انصاف کو خطرہ لاحق نہ ہو۔"
قرارداد 2788 پیشگی سفارت کاری، ثالثی اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کے اصول کی ایک اہم تجدید ہے۔ تاہم اس کی حقیقی اہمیت کا اندازہ تقاریر سے نہیں بلکہ اس پر غیرجانبدارانہ اور مسلسل عمل درآمد سے ہوگا۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی کونسلر صائمہ سلیم نے بجا طور پر کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن انکار یا محاذ آرائی سے نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کے تعین کا حق دینے سے ممکن ہو سکتا ہے۔
آخر میں، جمہوریہ کانگو کو اس اہم اجلاس کے انعقاد پر، سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو ان کی اصولی قیادت اور پیشگی سفارت کاری کے فروغ کے لیے مسلسل کوششوں پر، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد اور پاکستان کے مستقل مشن کو سلامتی کونسل کی توجہ تنازعات کے پرامن حل پر مرکوز رکھنے پر، اور ان تمام رکن ممالک کو خراجِ تحسین پیش کیا جانا چاہیے جنہوں نے اپنے تعمیری اور بصیرت افروز خیالات کے ذریعے اس حقیقت کی توثیق کی کہ مکالمہ، ثالثی اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری ہی ایک زیادہ پُرامن اور محفوظ دنیا کی ضمانت ہیں۔