بھارت انسانی حقوق کی شدید تنزلی والے ممالک کی واچ لسٹ میں شامل؛ مودی حکومت بے نقاب
جنیوا / نئی دہلی — انسانی حقوق کے عالمی اتحاد اور سول سوسائٹی تنظیم "سیوکس (CIVICUS) مانیٹر" نے اپنی تازہ ترین واچ لسٹ جاری کرتے ہوئے بھارت کو انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی شدید پامالی کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مودی حکومت کا تیسرا دورِ اقتدار جمہوری اقدار اور بنیادی حقوق کے حوالے سے تاریخ کا بدترین دور ثابت ہو رہا ہے۔
عالمی ادارے نے بھارت کا شمار برکینا فاسو، جارجیا اور ایکواڈور جیسے شدید متنازع اور تنزلی کا شکار ممالک کے ساتھ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری آزادیوں پر ریاستی جبر اور منظم کریک ڈاؤن اب بھارتی حکومت کی باقاعدہ پالیسی بن چکا ہے۔
کالا قانون 'یو اے پی اے' اور سیاسی انتقام
رپورٹ کے مطابق بھارتی ایجنسیاں سیاسی کارکنوں، وکلاء، اساتذہ اور صحافیوں کو دبانے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کے بدنام زمانہ قوانین (UAPA) کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں۔
سیوکس مانیٹر کی رپورٹ کے مطابق: "مارچ 2026 میں دہلی پولیس نے 11 سرگرم کارکنوں کو بغیر کسی وارنٹ کے حراست میں لے کر قانون کی دھجیاں اڑا دیں۔ عمر خالد اور شرجیل امام 2020 سے بغیر کسی شفاف ٹرائل کے جیلوں میں قید ہیں، جبکہ این جی اوز کی مالی شہ رگ دبانے کے لیے بیرونِ ملک عطیات کے قوانین کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔"
صحافت پر وار اور سنسرشپ کے ہتھکنڈے
رپورٹ میں بھارتی ایوی ایشن، ڈیجیٹل میڈیا اور صحافیوں پر ریاستی تشدد کے سنگین واقعات کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے نمایاں انکشافات:
صحافیوں کو سزائیں: اڈانی گروپ پر تنقیدی رپورٹنگ کی پاداش میں معروف صحافی روی نائر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ آسام میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے پر اخبار آسومیا پرتی دن کے دفتر پر حملہ کیا گیا۔
فلموں اور سوشل میڈیا پر پابندی: جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی پر بنی فلم ستلج پر ریلیز کے محض 48 گھنٹوں کے اندر پابندی عائد کر دی گئی، جبکہ انسانی حقوق کی رپورٹنگ کرنے والے 7 ایکس (ٹویٹر) اکاؤنٹس کو بلاک کر دیا گیا۔
مزدوروں پر وحشیانہ تشدد: نوئیڈا میں کم اجرتوں اور بدترین حالاتِ کار کے خلاف آواز اٹھانے والے مزدوروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ جولائی 2026 میں پرامن مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا گیا۔
مقبوضہ کشمیر میں معلوماتی بائیکاٹ اور گرفتاریاں
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ خرم پرویز اور عرفان معراج جیسے عالمی سطح پر تسلیم شدہ فعال کارکن بدستور بیجا حراست کا سامنا کر رہے ہیں۔
مارچ 2026 میں مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ کی رفتار محدود کر کے اظہارِ رائے پر قدغن لگائی گئی، جبکہ جولائی 2026 میں کشمیر کی حقیقی تاریخ پر کتابیں شائع کرنے کی پاداش میں تین کشمیری ناشرین کو گرفتار کر لیا گیا۔
سیاسی ماہرین کا ردِعمل: "سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سیوکس مانیٹر کی اس چشم کشا رپورٹ نے بھارتی حکومت کے جمہوریت پسندانہ دعووں کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ عالمی سطح پر مودی حکومت کی فاشسٹ پالیسیوں کے خلاف دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے