بھارتی جیلوں میں کشمیری اسیران پر مظالم: حریت کانفرنس کا اقوام متحدہ سے نوٹس کا مطالبہ
اسلام آباد — کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر و پاکستان نے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)، یورپی یونین اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارتی جیلوں میں قید حریت رہنماؤں اور ہزاروں کشمیری نظربندوں کی ابتر حالت زار اور غیر انسانی سلوک کا فوری نوٹس لیں۔
حریت کانفرنس کے سیکرٹری اطلاعات امتیاز وانی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق حریت کے سینئر رہنما سید فیض نقشبندی نے بھارتی جیلوں میں کشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کالے قوانین کے تحت سیاسی انتقام اور غیر قانونی گرفتاریوں کا انکشاف
سید فیض نقشبندی نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی پرامن جدوجہد کو دبانے کے لیے سیاسی رہنماؤں، حریت کارکنوں، صحافیوں، وکلاء اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
ان کی جانب سے اٹھائے گئے اہم نکات:
کالے قوانین کا بے جا استعمال: حریت رہنماؤں اور شہریوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) جیسے سخت قوانین کے تحت طویل عرصے سے قید رکھا گیا ہے۔
بنیادی حقوق کی سلب کاری: کشمیری اسیران کو ضروری طبی سہولیات، اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت اور منصفانہ عدالتی کارروائی جیسے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
عالمی قوانین کی خلاف ورزی: قیدیوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ رویہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین اور جنیوا کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
عدالتی نظام کو سیاسی ہتھیار بنانے کے خلاف عالمی ایکشن کا مطالبہ
حریت رہنما نے زور دے کر کہا کہ بھارت اپنے عدالتی نظام اور انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کو کشمیریوں کی آواز دبانے اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، جو عالمی انصاف کے اصولوں اور انسانی وقار کے بالکل منافی ہے۔
"عالمی برادری بھارتی جیلوں میں قید کشمیریوں کو سیاسی انتقام اور عدالتی ناانصافیوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ بھارت کو پابند کیا جائے کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے تمام بے گناہ کشمیریوں کو بلا تاخیر آزاد کرے۔" — سید فیض نقشبندی، سینئر حریت رہنما