گلگت بلتستان ،ترقی چاہیے صوبہ نہیں ۔
ایک مرتبہ پھر پاکستان میں ایک ایسی تجویز زیرِ بحث ہے جو ماضی میں بھی کئی بار سامنے آ چکی ہے، اور ہر بار ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے: کیا ہم اپنے ہی مؤقف کو کمزور کرنے جا رہے ہیں؟
گلگت بلتستان اسمبلی کے متعدد سینئر ارکان، جن میں قائدِ ایوان امجد حسین، قائدِ حزبِ اختلاف حافظ حفیظ الرحمن، ڈپٹی اسپیکر ملک کفایت الرحمٰن، سید جلال علی شاہ، محمد دلپذیر اور فرمان علی شامل ہیں، نے تجویز پیش کی ہے کہ پاکستان کا آئین ترمیم کرکے گلگت بلتستان کو عبوری صوبے کا درجہ دیا جائے۔
ان رہنماؤں کی نیت پر کوئی شبہ نہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام کے حقیقی مسائل ہیں۔ وہ آئینی تحفظ، معاشی ترقی، معیاری تعلیم، جدید صحت کی سہولیات، روزگار کے بہتر مواقع اور حکمرانی میں مؤثر نمائندگی کے حق دار ہیں۔ یہ تمام مطالبات جائز بھی ہیں اور ان پر بہت پہلے عمل ہونا چاہیے تھا۔ تاہم، ان مسائل کا حل گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی صوبہ بنانا نہیں ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ یہی تجویز بھارت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات، یعنی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کے خاتمے اور جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی، کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔
یہیں ایک بنیادی تضاد سامنے آتا ہے۔ اگر پاکستان یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ بھارت نے متنازعہ علاقے کی آئینی حیثیت یکطرفہ طور پر تبدیل کرکے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے، تو پھر پاکستان اسی متنازعہ ریاستِ جموں و کشمیر کے ایک اور حصے کی آئینی حیثیت میں یکطرفہ تبدیلی کیسے کر سکتا ہے؟
پاکستان نے کئی دہائیوں سے عالمی برادری کے سامنے کشمیر کے معاملے پر ایک اصولی اور مستقل مؤقف اختیار کر رکھا ہے۔ پاکستان ہمیشہ یہ کہتا آیا ہے کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق وہاں کے عوام کے حقِ خودارادیت کے ذریعے ہونا چاہیے۔ اسلام آباد میں آنے والی ہر حکومت نے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے رہا ہو، اسی مؤقف کا دفاع کیا ہے۔
ایسی صورت میں اگر گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی صوبہ بنایا جاتا ہے تو پاکستان کے مؤقف اور عملی اقدامات کے درمیان واضح تضاد پیدا ہوگا۔
یہ معاملہ صرف قانونی نہیں بلکہ سیاسی اور سفارتی بھی ہے۔ اگر پاکستان گلگت بلتستان کو باضابطہ طور پر اپنے آئینی ڈھانچے میں شامل کرتا ہے تو نئی دہلی کو یہ مؤقف اختیار کرنے کا موقع مل جائے گا کہ اسلام آباد نے بھی وہی اقدام کیا ہے جس پر وہ بھارت کو تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے، یعنی متنازعہ علاقے کی آئینی حیثیت میں یکطرفہ تبدیلی۔ اگرچہ دونوں معاملات کی قانونی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر بھارت کے لیے اپنا بیانیہ پیش کرنا کہیں آسان ہو جائے گا۔
پاکستان کی سب سے مضبوط دلیل ہمیشہ اس کے مؤقف میں تسلسل اور مستقل مزاجی رہی ہے۔ اس اصولی برتری کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔
اسی لیے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا معاملہ صرف داخلی سیاست تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پاکستان کی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی سفارتی مؤقف پر بھی مرتب ہوں گے۔
حال ہی میں ایک سابق پاکستانی سفارت کار نے مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "ایسے دوستوں کے ہوتے ہوئے کشمیر کو دشمنوں کی ضرورت نہیں۔" یہ جملہ بظاہر سخت محسوس ہو سکتا ہے، لیکن اس میں ایک تلخ حقیقت پوشیدہ ہے کہ نیک نیتی سے پیش کی گئی تجاویز بھی بعض اوقات دور رس نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔
اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل کو نظر انداز کیا جائے۔ بلکہ اس کے برعکس، اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ اس خطے کے دیرینہ مسائل کو فوری طور پر حل کرے۔ بنیادی ڈھانچے، اعلیٰ تعلیم، صحت، سیاحت، قابلِ تجدید توانائی، شاہراہوں اور روزگار کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام مساوی حقوق، مؤثر سیاسی نمائندگی اور پائیدار معاشی ترقی کے مستحق ہیں۔
گلگت بلتستان سپریم اپیلیٹ کورٹ کے سابق جج جسٹس مظفر علی نے بجا طور پر کہا تھا:
"ایک خوشحال پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام، خصوصاً تعلیم یافتہ نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے احساسِ محرومی کا ازالہ کیا جائے۔"
یہی وہ سمت ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان کو مضبوط بنانے کے بے شمار راستے موجود ہیں، لیکن پاکستان کے کشمیر سے متعلق بین الاقوامی مؤقف کو کمزور کیے بغیر۔
جموں و کشمیر کے عوام نے بے شمار قربانیاں دی ہیں، جبکہ پاکستان نے کئی دہائیوں تک عالمی سطح پر ایک اصولی مؤقف قائم رکھنے کے لیے مسلسل سفارتی جدوجہد کی ہے۔ ایسے میں کوئی بھی ایسا فیصلہ، جس کے نتائج ناقابلِ واپسی ثابت ہوں، نہ صرف اس جدوجہد بلکہ ان قربانیوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔