کل جماعتی حریت کانفرنس کا 14 اگست کو یومِ آزادیٔ پاکستان اور 15 اگست کو یومِ سیاہ منانے کا اعلان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے باوجود پاکستانی عوام اور کشمیریوں کا رشتہ اٹوٹ ہے: حریت قیادت
اسلام آباد — کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر و پاکستان کے اہم اجلاس میں 14 اگست کو یومِ آزادیٔ پاکستان بھرپور جوش و خروش سے منانے اور 15 اگست کو بھارت کا یومِ آزادی بطور "یومِ سیاہ" منانے کا باضابطہ اعلان کیا گیا ہے۔
یہ اہم فیصلے اسلام آباد میں کنوینر کل جماعتی حریت کانفرنس غلام محمد صفی کی زیرِ صدارت منعقدہ خصوصی اجلاس میں کیے گئے۔
اہم نکات
دوٹوک اعلان: 14 اگست کو پاکستان کے ساتھ تجدیدِ عہدِ وفا اور 15 اگست کو بھارتی غصب کے خلاف عالمی سطح پر احتجاج کیا جائے گا۔
نظریاتی وابستگی: بھارتی فوجی محاصرے اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے باوجود کشمیری عوام اپنے حقِ خودارادیت کے مطالبے پر قائم ہیں۔
عوامی اپیل: پاکستانی قوم، سول سوسائٹی، اور ذرائع ابلاغ سے 14 اگست کی تقریبات میں کشمیری شہدا اور مقبوضہ وادی کے مظلوموں کو یاد رکھنے کی درخواست۔
پاکستان اور کشمیر کا تاریخی و نظریاتی رشتہ
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کنوینر غلام محمد صفی نے کہا کہ کشمیری عوام اور پاکستان کے درمیان رشتہ محتاجِ تعارف نہیں۔ 14 اگست کا دن تمام کشمیریوں کے لیے مسرت اور امید کی علامت ہے۔
"مقبوضہ جموں و کشمیر میں شدید سیاسی جبر، گرفتاریوں اور اظہارِ رائے پر پابندیوں کے باوجود کشمیری عوام پاکستان سے اپنی والہانہ محبت سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ 14 اگست ہمیں آزادی کی قدر کا احساس دلاتا ہے۔"
15 اگست: بھارتی تسلط کے خلاف عالمی احتجاج
حریت کانفرنس نے واضح کیا کہ 15 اگست کا دن مقبوضہ وادی کے عوام کے لیے یومِ سیاہ کی حیثیت رکھتا ہے، جس کا مقصد عالمی برادری کی توجہ بھارت کے ناہموار اور غاصبانہ اقدامات کی جانب مبذول کرانا ہے۔
"15 اگست کو بھارتی مظالم کے خلاف پرامن احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔ کشمیری قوم اس وقت تک اپنی سیاسی و سفارتی جدوجہد جاری رکھے گی جب تک انہیں اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حقِ خودارادیت نہیں مل جاتا۔"
یہ پریس ریلیز سیکرٹری اطلاعات حریت کانفرنس امتیاز وانی کی جانب سے جاری کی گئی، جس میں عالمی برادری سے مقبوضہ علاقے میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔